• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 12:26 شام
  • پاکستان

کاغذی کمپنیوں کی جانب سے 71 ہزار 815 انٹرنیٹ راوٹرز کی غیرقانونی درآمد کی گئی

پاکستان کسٹمز ائیر فریٹ یونٹ کراچی سے جعلی کمپنیوں کے نام پر 3 ارب 26 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کے 71 ہزار 815 انٹرنیٹ راوٹرز کی غیرقانونی درآمدات کا انکشاف ہوا ہے جنکی کسٹمز کلئیرنس پی ٹی اے کے اجازت نامہ کے بغیر دی گئی ہے۔

اس امر کا انکشاف کلکٹر کسٹمز کراچی ایئرپورٹ سعدیہ شیراز کی جانب سے سیکریٹری انفورسمنٹ ایف بی آر کو بھیجی گئی 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے مذکورہ درآمدات کے عوض ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلم سنز انٹرپرائز اور موسانی سنڈیکیٹ نامی دو مبینہ دستاویزات پر مبنی جعلی کمپنیوں کے ذریعے پی ٹی اے کے ٹائپ اپروول اور کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے بغیر 71815 انٹرنیٹ راﺅٹرز درآمد کیے گئے تھے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں دو جعلی و کاغذی کمپنیوں میسرز مسلم سنز انٹرپرائزز اور میسرز موسانی سنڈیکیٹ کے ذریعے اربوں روپے کے مالیاتی فراڈ، غیر قانونی درآمدات، انڈر انوائسنگ اور ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے، دونوں کمپنیاں فرنٹ مین کے ناموں پر رجسٹرڈ تھیں جنہیں پس پردہ بااثر آپریٹرز مارکیٹ آئی ڈیز کے طور پر استعمال کررہے تھے۔

تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ دونوں کمپنیوں کے دیئے گئے پتہ پر کوئی دفتر موجود ہی نہیں تھا، میسرز مسلم سنز انٹرپرائز کے پتے پر ایک چاول و آٹے کی دکان جبکہ موسانی سنڈیکیٹ کے دیے گئے پتے پر ایک کرائے کا رہائشی مکان پایا گیا۔

اس کے علاوہ حیران کن طور پر دونوں کمپنیوں کی جانب سے مجموعی طور پر کسٹمز آن لائن سسٹم وی بوک کے یوزر آئی ڈیز سے 5715 مختلف آئی پی ایڈریس سے استعمال کیے جا رہے تھے، جن میں سے 1048 آئی پی ایڈریسز دونوں کمپنیوں میں بالکل مشترک تھے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں فرمز کو ایک ہی گروہ چلا رہا ہے۔

مالیاتی ریکارڈ اور انکم ٹیکس گوشواروں کے جائزے سے معلوم ہوا کہ دونوں کمپنیوں نے 3 ارب 26 کروڑ 90 لاکھ روپے بشمول ڈیوٹی و ٹیکسز کی مجموعی قیمت کے راﺅٹرز درآمد کیا اور بیرون ملک 2 ارب 10 کروڑ روپے منتقل کیے جبکہ دونوں مالکان کا مجموعی ابتدائی سرمایہ صرف 22 لاکھ روپے تھا، یعنی مجموعی درآمدی لاگت ان کے سرمائے سے 42 گنا زیادہ تھی۔

کسٹمز دستاویزات کے مطابق مذکورہ دونوں کمپنیاں ایک ہی ہیں اور راﺅٹرز کے 108 مقامی خریدار اور 12 غیر ملکی سپلائرز بشمول میسرز اے کے سنز ٹریڈنگ کمپنی تھی جبکہ ان کے سیلز ٹیکس گوشوارے بھی محض چند منٹوں کے فرق سے ایک ساتھ جمع کرائے جاتے تھے۔

اس کے علاوہ 2 ارب 90 کروڑ کے روپے کی مقامی فروخت پر محض نام برائے نام نقد سیلز ٹیکس ادا کیا گیا اور اربوں روپے کے راﺅٹرز بلیک لسٹڈ، معطل اور غیر فعال خریداروں یا غیر متعلقہ شعبوں جیسے ایچ آر اور پرسنل سروسز کمپنیوں کو فروخت ظاہر کیا گیا۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی لازمی منظوری اور ٹائپ اپروول کے بغیر 71815 انٹرنیٹ راﺅٹرز کے 10 غیرقانونی کنسائمنٹس بھی انہی کمپنیوں کے نام پر درآمد کیے گئے۔ مذکورہ دونوں کمپنیوں نے 9 کروڑ 70 لاکھ روپے کے راؤٹرز کی قیمت گھٹا کر انڈر انوائسنگ کی جس کی کسٹمز نے اصل قیمت 56 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کی تھی جبکہ مجموعی طور پر ایک ارب 30 کروڑ روپے کی انڈرانوائسنگ کا بھی انکشاف ہوا۔

کسٹمز حکام نے جب اس غیر قانونی درآمدہ اشیاء کی کلئیرنس اور غیر قانونی آکشن یا مینول ڈلیوری سے انکار کیا تو ان کمپنیوں کے پس پردہ کارندوں نے کسٹمز افسران کو بلیک میل کرنے کے لیے مالی لالچ، اثر و رسوخ اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور ایک شخص نے کسٹمز حکام کو فون اور وائس نوٹس کے ذریعے سنگین نتائج اور سوشل میڈیا پر من گھڑت مہم چلا کر بدنام کرنے کی دھمکیاں دیں، سوشل میڈیا پوڈکاسٹرز کے ذریعے افسران کے خلاف منظم مہم بھی چلائی گئی۔

ان تمام حقائق، مالیاتی فراڈ اورانسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی خلاف ورزیوں کی روشنی میں کسٹمز کلکٹریٹ نے نیب، ایف آئی اے، ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز انٹیلی جنس پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے، دونوں کمپنیوں کی وی بوک یوزر آئی ڈیز اور این ٹی این معطل کرنے اور کیس کو سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس کارروائی کے لیے آر ٹی او ٹو کراچی بھیجنے کی سفارش کی ہے۔ اس سلسلے میں مذکورہ دونوں کمپنیوں سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے