• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 5:33 صبح
  • پاکستان

میری بیوی بچے کہاں ہیں؟ ڈیڑھ سالہ ٹیٹو سنگھ کی کہانی کا اصل راز کیا ہے؟

دکاندار نے تین دن میں موبائل ٹھیک نہ کیا تو شہری تلوار لے کر پہنچ گیا

کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟

بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں بیش تر معاملات پر اتفاق کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف ممکنہ کارروائی ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے، جس کا تعلق براہِ راست لوگوں کی زندگیوں سے ہے، اس لیے موجودہ صورت حال میں مزید تفصیلی بات چیت ضروری ہے۔

فواد چوہدری کے مطابق اس معاملے پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور ان کی ٹیم سے براہِ راست مذاکرات کر کے انھیں تعاون کی نوعیت اور ضرورت سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے اپنے ایکس بیان میں کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں پیچیدہ سیاسی معاملات پر جب اتنی پیش رفت ہوچکی ہے تو نیشنل ایکشن پلان سے متعلق معاملہ بھی مذاکرات کے ذریعے طے ہونا چاہیے۔ انھوں نے ایکس پر لکھا ’’حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات ہونا اور 90 فی صد معاملات پر اتفاق بڑی کامیابی ہے، جہاں تک نیشنل ایکشن پلان کا تعلق ہے یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے۔‘‘

فواد چوہدری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا معاملہ محض سیاسی نوعیت کا نہیں بلکہ انتہائی اہم، سنجیدہ اور پیچیدہ نکات پر مشتمل ہے، جب کہ اس معاملے کا براہِ راست تعلق لوگوں کی زندگیوں سے ہے، اس لیے اسے جلد بازی میں طے نہیں کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے لکھا ’’بہتر یہ ہوگا کہ پشاور کور وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم سے براہ راست بات بھی کرے اور ان کو بتائے بھی کہ اس تعاون کی کیا شکل اور ضرورت ہے۔‘‘

ٹوئٹ میں چوہدری نے مزید لکھا ’’جہاں پیچیدہ سیاسی معاملات پر اتنی بات ہوئی ہے یہ معاملہ بھی طے ہونا چاہیے، دونوں طرف بہت اہم، سنجیدہ اور پیچیدہ نکات ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کا سوال ہے!! اس لیے مزید تفصیلی بات چیت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں!!‘‘

مذاکرات ناکامی میں کلیدی کردار محمود خان اچکزئی نے ادا کیا، ذرائع کا دعویٰ

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا اصرار ہے کہ نیشنل ایکشن پلان سے متعلق معاملے پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم سے براہِ راست بات کی جائے۔ ادھر اپوزیشن سے مذاکرات کرنے والے حکومتی وفد کے ذرائع نے اپنے دعوے میں مذاکرات کی ناکامی کا سارا بوجھ خیبرپختونخوا حکومت پر ڈالا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔

ایک اور ٹوئٹ میں چوہدری نے مذاکرات پر تبصرہ لکھا کہ ’’منصفانہ طور پر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کو میری توقع سے زیادہ حاصل ہوا ہے۔‘‘ تاہم انھوں نے کہا کہ ’’دہشت گردی سے متعلق پیچیدہ معاملات پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے۔‘‘

حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات ہونا اور نوے فیصد معاملات پر اتفاق رائے بڑی کامیابی ہے، جہاں تک نیشنل ایکشن پلان کا تعلق ہے یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے اور بہتر یہ ہو گا کہ پشاور کور وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم سے براہ راست بات بھی کرے اور ان کو بتائے بھی کہ اس تعاون کی کیا شکل اور ضرورت ہے، جہاں پیچیدہ سیاسی معاملات پر اتنی بات ہوئ ہے یہ معاملہ بھی طے ہونا چاھئے، دونوں طرف بہت اہم ، سنجیدہ اور پیچیدہ نکات ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کا سوال ہے!! اس لئے مزید تفصیلی بات چیت کے علاوہ کوئ چارہ نہیں!! — Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) October 4, 2026

حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات ہونا اور نوے فیصد معاملات پر اتفاق رائے بڑی کامیابی ہے، جہاں تک نیشنل ایکشن پلان کا تعلق ہے یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے اور بہتر یہ ہو گا کہ پشاور کور وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم سے براہ راست بات بھی کرے اور ان کو بتائے بھی کہ اس تعاون کی کیا شکل اور ضرورت ہے، جہاں پیچیدہ سیاسی معاملات پر اتنی بات ہوئ ہے یہ معاملہ بھی طے ہونا چاھئے، دونوں طرف بہت اہم ، سنجیدہ اور پیچیدہ نکات ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کا سوال ہے!! اس لئے مزید تفصیلی بات چیت کے علاوہ کوئ چارہ نہیں!!

— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) October 4, 2026

فواد چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی جیسے پیچیدہ معاملے پر فیصلہ سازی کے لیے صرف 72 گھنٹے کی مدت مقرر کرنا مناسب نہیں ہے، کیوں کہ اس نوعیت کے معاملات پر تفصیلی مشاورت اور غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات میں شامل حکومت اور پی ٹی آئی کے فریق جلد از جلد دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے اور دہشت گردی سے متعلق اس معاملے کو بھی باہمی مشاورت سے طے کر لیا جائے گا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے