• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 1:13 صبح
  • پاکستان

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

واشنگٹن : پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے ممکنہ نئی اینٹی باڈی دوا ’گوٹسٹوبارٹ‘ کے فیز 3 کلینیکل ٹرائلز کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔

یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پھیپھڑوں کے کینسر کا نیا علاج معیاری کیموتھراپی کو پیچھے چھوڑ گیا، جس سے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا ہوگئی۔

دوا ساز کمپنی بائیو این ٹیک کے مطابق گوٹسٹوبارٹ نے مریضوں میں امید کی نئی کرن پیدا کردی، جس کے استعمال سے کیموتھراپی کے مقابلے میں بہتر اور حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک مخصوص اور مشکل قسم کے علاج کے لیے تیار کی جانے والی تجرباتی دوا گوٹسٹوبارٹ نے کلینیکل ٹرائل میں حوصلہ افزا نتائج ظاہر کیے ہیں۔

مذکورہ تحقیقی نتائج کے مطابق یہ دوا استعمال کرنے والے مریضوں کی مجموعی زندگی کا دورانیہ کیموتھراپی کے مقابلے میں تقریباً دگنا ریکارڈ کیا گیا۔

بائیو این ٹیک کے مطابق یہ نتائج پریزرو 003 فیز تھری کلینیکل ٹرائل سے سامنے آئے، جس میں ایسے مریض شامل تھے جو لنگ کینسر میں مبتلا تھے اور جن کی بیماری پہلے امیونوتھراپی اور کیموتھراپی کے باوجود بڑھ چکی تھی۔

ٹرائل میں گوٹسٹوبارٹ کے استعمال سے مجموعی زندگی کے دورانیے میں اعداد و شمار کے لحاظ سے نمایاں اور طبی طور پر بہتری دیکھی گئی۔ 17 جولائی 2026 کو ڈیٹا کا جائزہ لینے کے وقت مریضوں کی اوسط مدت 25.4 ماہ تھی۔

ٹرائل میں لنگ کینسر کے 87 مریضوں کو شامل کیا گیا، جنہیں دوسری یا اس کے بعد کے علاج میں گوٹسٹوبارٹ یا معیاری کیموتھراپی کی دوا ڈوسیٹیکسیل دی گئی۔

نتائج کے مطابق گوٹسٹوبارٹ لینے والے مریضوں میں زندگی کے دورانیے کی درمیانی مدت 18.5 ماہ رہی، جبکہ ڈوسیٹیکسیل لینے والے مریضوں میں یہ مدت 10 ماہ تھی، یوں تجرباتی دوا کے گروپ میں بہتری کی مدت تقریباً ساڑھے 8 ماہ زیادہ رہی۔

فلوریڈا کے اوکالا آنکولوجی سینٹر کے میڈیکل آنکولوجسٹ اور ٹرائل کے پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر راما بالارامَن نے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امیونوتھراپی کے بعد بیماری بڑھنے والے اسکواومس نان اسمال سیل لنگ کینسر کے مریضوں کے لیے علاج کے محدود آپشنز موجود ہیں۔

ان کے مطابق اگر فیز تھری ٹرائل کے اہم مرحلے میں بھی یہ نتائج برقرار رہتے ہیں تو یہ علاج کے موجودہ معیار میں نمایاں تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔

بائیو این ٹیک کی شریک بانی اور چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر اوزلم توریجی کے مطابق بیماری کے دوسرے یا بعد کے مراحل میں نئے علاج کی اہمیت اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ مدافعتی نظام کے دبے ہوئے ردعمل کو دوبارہ فعال کرکے کینسر کے خلاف جسم کی قوتِ مدافعت کو متحرک کرسکیں۔

ٹرائل میں دوا کی حفاظت سے متعلق نتائج بھی سامنے آئے۔ گریڈ 3 یا اس سے زیادہ کے علاج سے متعلق مضر اثرات گوٹسٹوبارٹ لینے والے 45 میں سے 20 مریضوں یعنی 44.4 فیصد رپورٹ ہوئے۔

پریزرو 003 کے فیز تھری ٹرائل کا اہم مرحلہ اس وقت دنیا بھر میں 160 سے زائد مراکز پر جاری ہے۔ کمپنی کے مطابق ٹرائل کے پہلے مرحلے میں بھی گوٹسٹوبارٹ نے ایسے مریضوں میں ڈوسیٹیکسیل کے مقابلے میں زندگی کا مجموعی دورانیہ اور دیرپا اینٹی ٹیومر سرگرمی کے حوالے سے حوصلہ افزا نتائج دکھائے تھے جن کی بیماری علاج کے باوجود بڑھ گئی تھی۔

یاد رہے کہ گوٹسٹوبارٹ ابھی تحقیقاتی دوا ہے اور اس کے حتمی طبی فوائد اور مستقبل میں ممکنہ استعمال کا تعین جاری فیز تھری ٹرائل کے مکمل نتائج اور متعلقہ طبی و ریگولیٹری جائزوں کے بعد ہی ہوگا۔

پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت، نئی دوا کے ٹرائل کامیاب

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے