11 ستمبر 2001 کو پینٹاگون اور ورلڈ ٹریڈ سینٹرز سے 3 طیارے ٹکرائے، چوتھا پنسلوانیا میں گرا تھا،3 ہزار ہلاکتیں ہوئیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 11 ستمبر 2001 کے پینٹاگون پر حملے کے بارے میں کیے گئے نئے دعوے سب کو حیران کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی نائن الیون حملوں میں ہلاک ہونے والے ایمرجنسی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ 11 ستمبر کی صبح موسم خوبصورت تھا اور میں نے ٹیلی وژن پر حملے کی خبر دیکھی اور اپنی کھڑکی سے باہر دیکھا تو ایسا منظر نظر آیا جسے وہ دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ اس دن ایک تعمیراتی منصوبے کی نگرانی کر رہے تھے اور حملے کے فوراً بعد اپنی پوری ٹیم کو جائے وقوعہ پر لے گئے تاکہ امدادی کاموں میں حصہ لے سکیں۔
انھوں نے کہا کہ اسی دوران حملے کی شکار ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ایک قریبی عمارت کی حالت شدید خستہ ہوگئی اور اس کے گرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔ آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب محسوس ہوا عمارت ان کے اوپر گرسکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ہمیں لگا کہ عمارت ہمارے اوپر آ رہی ہے اور پھر دو طویل القامت اور طاقت ور دو فائر فائٹرز مجھے بازوؤں سے پکڑ کر کہنے لگے کہ یہاں سے نکلنا ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ دونوں فائر فائٹرز مجھے بازوؤں سے اُٹھائے تیزی سے بھاگتے ہوئے محفوظ مقام پر لے گئے جس سے میں اس ناگہانی سے بال بال بچ گیا تھا اور آج آپ کے درمیان ہوں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نائن الیون حملوں کے دو روز بعد صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ گراؤنڈ زیرو گئے تھے اور اپنی کمپنی کے تقریباً 100 کارکنوں کو ملبہ ہٹانے اور امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے وہاں بھیجا تھا۔
ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس سی این این اور نیویارک ٹائمز سمیت امریکی میڈیا نے جب عینی شاہدین سے بات کی تو کسی نے بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ امدادی کاموں میں ٹرمپ کے رضاکار شامل تھے۔
نائن الیون حملوں نے امریکا کو ہلا کر رکھ دیا تھا
امریکا کا دعویٰ تھا کہ 11 ستمبر 2001 کو القاعدہ سے وابستہ 19 جنگجوؤں نے چار مسافر طیارے اغوا کیے تھے۔
جن میں سے دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جڑواں عمارتوں اور تیسرا طیارہ پینٹاگون سے ٹکرا دیا تھا جبکہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوا اور 3 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
