• ستمبر 20, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 20, 2026 9:09 صبح
  • پاکستان

مزید میڈیا اداروں کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی کوریج کرنے والے تین بڑے میڈیا اداروں CNN، MS NOW اور POLITICO کو وائٹ ہاؤس سے دور رکھنے کا اعلان کردیا جس کے بعد امریکی میڈیا اور آزادیٔ صحافت کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کرتے ہوئے مذکورہ اداروں پر الزام لگایا کہ وہ صدر اور ان کی انتظامیہ کی کوریج کے دوران جھوٹی خبریں نشر کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مزید میڈیا اداروں کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں پابندی کی کوئی ایک مخصوص خبر یا رپورٹ وجہ کے طور پر پیش نہیں کی بلکہ کہا کہ یہ فیصلہ گزشتہ عرصے کی مجموعی کوریج کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے ان میڈیا اداروں پر اپنے خلاف منفی کوریج کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے کئی سینئر حکام بھی اس اعلان سے بظاہر لاعلم تھے۔ رپورٹس کے مطابق بعض حکام کو پابندی کے بارے میں پہلی اطلاع ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ دیکھ کر ملی، جبکہ وائٹ ہاؤس کا پریس دفتر بھی اچانک سامنے آنے والے فیصلے پر اس کے عملی نفاذ کے طریقہ کار کے حوالے سے وضاحت تلاش کرتا رہا۔

بعد ازاں پابندی کے عملی اثرات بھی سامنے آگئے۔ CNN، MS NOW اور POLITICO کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے سے روک دیا گیا۔

MS NOW اور CNN نے اپنے بیانات میں کہا کہ وہ حکومتی امور کی رپورٹنگ جاری رکھیں گے اور صحافت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کے خلاف اپنے آئینی حقوق کا دفاع کریں گے۔

اس معاملے نے امریکی آئین کی پہلی ترمیم اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے میڈیا کو رسائی دینے کے اختیارات سے متعلق قانونی سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ ماضی میں بھی ٹرمپ انتظامیہ اور بعض میڈیا اداروں کے درمیان وائٹ ہاؤس اور دیگر سرکاری مقامات تک رسائی پر تنازعات عدالتوں تک پہنچ چکے ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ پابندی کا دائرہ مزید میڈیا اداروں تک بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ سمیت دیگر اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یوں وائٹ ہاؤس اور بڑے امریکی میڈیا اداروں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جبکہ CNN، MS NOW اور POLITICO کی جانب سے صحافتی کام جاری رکھنے کے عزم کے بعد معاملہ مزید قانونی اور انتظامی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے