• ستمبر 26, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 26, 2026 2:26 شام
  • پاکستان

آنکھوں کی بیماری کا علاج، نئی دوا امید کی کرن

بدنام زمانہ گینگسٹر کو شادی کیلیے 12 گھنٹے کی رہائی مل گئی

آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

نیویارک: ایرانی صدر مسعود پزشکیان اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد تہران روانہ ہوگئے اور اس کے ساتھ امریکی صدر سے ملاقات کا امکان ختم ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت اور عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتوں کے بعد نیویارک سے تہران کے لیے روانہ ہو گئے ہیں،

جس کے ساتھ ہی ان کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متوقع ملاقات کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔

ایرانی میڈیا نے بتایا کہ دورہ نیویارک کے دوران صدر مسعود پزشکیان نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ پاکستان، سوئٹزرلینڈ، عراق، بنگلہ دیش، ناروے، آرمینیا، نیدرلینڈز اور لبنان کے سربراہانِ مملکت کے ساتھ ساتھ یورپی کونسل کے صدر اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی اہم تفصیلی ملاقاتیں کیں۔

امریکی ٹی وی چینل ‘سی بی ایس’ کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں بلکہ خطے میں امن کا خواہاں ہے۔

انہوں نے سفارتی حل پیش کرتے ہوئے کہا اگر امریکہ ایران کی عائد کردہ شرائط کو تسلیم کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد ہی امریکہ کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، اور اس سلسلے میں "اسلام آباد ایم او یو” (MoU) کو ایک بنیادی فریم ورک بنایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا ایران اقوامِ متحدہ کے ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنی ایٹمی تنصیبات تک دوبارہ رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔

ایران کی اندرونی قیادت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر مکمل طور پر صحت مند ہیں اور تمام اہم و ستراتیژک فیصلے باہمی مشاورت اور رابطے کے ساتھ ہی کیے جاتے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے