• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 7:33 شام
  • پاکستان

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری رہی

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری رہی، جس کے دوران بزنس منیجر شہریار عرف شیری، محمد حسن خان تنولی، اسد علی بٹ، ہیڈ محرر گلستان جوہر ذیشان حیدر اور ڈاکٹر اسامہ کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

سندھ ہائیکورٹ سیکیورٹی نے کمیشن میں مزید 2 پولیس اہلکار بھی تعینات کردیئے، مرد اہلکار کورٹ روم میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے کو روکے گا جبکہ خاتون اہلکار کمیشن کے اندر تصاویر اور ویڈیو بنانے سے روکے گی۔ ڈاکٹر اسامہ اور ان کے وکیل معروف ہاشمی بھی کمیشن پہنچے۔

کمیشن نے وافلکس مینیجر شہریار عرف شیری کو طلب کیا۔ شہریار نے بتایا کہ وہ 2 سال سے وہاں کام کررہے تھے اور میر رضا کا سب کے ساتھ بہت اچھا رویہ تھا، وہ انہیں چھوٹے بھائی کی طرح سمجھتے تھے۔ کمیشن کے سوال پر انہوں نے کہا کہ 2، 3 ماہ سے سیل ڈاؤن تھی، تاہم ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا، جبکہ میر رضا کو بھی کبھی پریشان نہیں دیکھا۔

شہریار نے بتایا کہ وہ پارٹ ٹائم کام کرتے تھے اور 2، 3 ماہ سے تنخواہ میں تاخیر ہوئی تھی۔ میر رضا کے بعد انہوں نے احمد بھاردے کو پیغام کیا تو انہیں 10، 10 ہزار روپے دیئے گئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور کرایہ ادا کرنا تھا، اسی لیے رقم کے لیے پیغام کیا تھا۔

شہریار کے مطابق انہیں 3 اگست کو تھانے سے میڈم ندا نے کال کی تھی۔ ان کے بقول ندا ایس پی ہیں اور فیروز آباد تھانے میں تعینات ہیں۔ شہریار نے بتایا کہ پہلی تحقیقاتی ٹیم نے ان سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تحقیقات کیں، جبکہ دوسری ٹیم نے ان کا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ ریکارڈ کے مطابق بیانات 2 اگست کو ریکارڈ کیے گئے، جبکہ شہریار کے مطابق انہیں 3 اگست کو بلایا گیا تھا۔

شہریار نے بتایا کہ پولیس نے ان سے وافلکس اور میر رضا کی فیملی سے متعلق سوالات کیے، جن میں انکل اور آنٹی کی علیحدگی وغیرہ شامل تھی۔ ان کے مطابق تفتیش کے دوران ان پر چیخا گیا اور کہا گیا کہ جھوٹ مت بولنا۔ کمیشن نے سیلز میں کمی سے متعلق سوال کیا تو شہریار نے بتایا کہ روزانہ سیلز ایک لاکھ 30 ہزار روپے سے کم ہوکر 70 سے 75 ہزار روپے تک رہ گئی تھی۔

حیدرآباد جانے سے متعلق سوال پر شہریار نے بتایا کہ 25 جولائی کو ایونٹ کے لیے میر رضا، احمد، سپروائزر کاظم اور لیبر حیدرآباد گئے تھے، تاہم انہیں حیدرآباد میں برانچ کھولنے سے متعلق معلومات نہیں تھیں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ میر رضا اور احمد ان کے پاس سے رقم لے کر گئے تھے، جس پر شہریار نے کہا کہ انہوں نے پولیس کو ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ 27 جولائی کو میر رضا کلوزنگ کے وقت برانچ آئے اور 29 ہزار روپے لے کر چلے گئے تھے۔

ایپل واچ سے متعلق سوال پر شہریار نے کہا کہ پولیس کو انہوں نے ایسا کچھ نہیں بتایا، اگر پولیس کے بیان میں یہ درج ہے تو اپنی طرف سے لکھا ہوگا۔ شہریار کے مطابق میر رضا کی گمشدگی کے اگلے روز احمد نے سپروائزر کاظم کو شام 4 بجے شاپ کھولنے کا کہا۔ 28 جولائی کو شام ساڑھے 6 بجے کاظم کا فون آیا کہ گارڈ کا پستول غائب ہے اور پوری دکان چیک کرنے کے باوجود پستول موجود نہیں تھا۔

کمیشن نے شہریار سے سوال کیا کہ پولیس نے ان سے ڈیڑھ گھنٹے تحقیقات کیں تو کم از کم 100 سوالات کیے ہوں گے، لیکن ان کا بیان ایک صفحے کا بھی نہیں۔ شہریار نے کہا کہ پولیس کو دیئے گئے بیان میں جو کچھ شامل ہے وہ انہوں نے کبھی نہیں کہا۔ احسان انیس شمسی سے واقفیت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی ان کا نام بھی نہیں سنا، جبکہ حسن خان تنولی، عثمان بوزئی اور اسد علی بٹ کے نام سے متعلق سوال پر بتایا کہ میر رضا کو ایک بار کسی عثمان سے بات کرتے سنا تھا۔

شہریار نے بتایا کہ 28 جولائی کو صبح 4 بجے احمد کی کال سے انہیں میر رضا کی گمشدگی کا پتہ چلا۔ دکان کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کے لیے انہوں نے کیمرے نصب کرنے والے نعمان سے رابطہ کیا۔ نعمان نے لاگنگ تفصیلات بھیجنے کا کہا، جبکہ احمد اور عبداللہ نے لیاقت آباد سے مبین نامی شخص کو لانے کا کہا۔ شہریار کے مطابق احمد کے کہنے پر وہ مبین کو برانچ لے کر آئے، نعمان نے لاگنگ تفصیلات بھیج دیں اور اس کے ذریعے کیمروں کے ڈی وی آر میں لاگ اِن کیا گیا۔

شہریار نے بتایا کہ سی سی ٹی وی میں میر رضا کلوزنگ کے 15 منٹ بعد واپس آئے، گارڈ کا پستول گاڑی میں رکھا اور چلے گئے۔ انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج احمد کو بھیج دی تھی، جبکہ احمد نے پہلے کہا تھا کہ دیکھا جائے میر کلوزنگ کے بعد واپس آیا تھا یا نہیں۔ شہریار کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں پولیس نے انہیں گالیاں دیں، میر رضا کے لیے احتجاج میں شامل ہونے اور ان کی فیملی سے ملنے سے بھی منع کیا گیا۔

شہریار نے بتایا کہ دوسری تحقیقاتی ٹیم نے میر رضا کی ذہنی حالت، قرض داروں، منشیات کے استعمال اور فیملی سے متعلق ذاتی سوالات کیے۔ ان کے مطابق نشے کے استعمال سے متعلق نفی میں جواب دینے پر قیس نامی افسر برہم ہوگئے۔ موبائل فون سے متعلق شہریار نے بتایا کہ 17 اگست کو دوسری تحقیقاتی ٹیم نے ان کا فون ضبط کیا اور صرف پاس ورڈ لیا گیا۔

کمیشن کے سوال پر شہریار نے کہا کہ وہ اتنا کہہ سکتے ہیں کہ میر رضا نے خودکشی نہیں کی۔ ان کے مطابق میر رضا کو شو آف کرنے یا اسلحے کا شوق نہیں تھا اور ان کا گارڈ کا اسلحہ لے جانا ان کے لیے بھی عجیب تھا۔

کارروائی کے دوران جبران ناصر نے بتایا کہ گزشتہ شب ان کے والد کو ایک کال موصول ہوئی، کال کرنے والے نے اپنا تعارف حساس ادارے سے ظاہر کیا اور کہا کہ ایس ایچ او عدیل افضال ان کا بچہ ہے۔ جبران ناصر کے مطابق کال کرنے والے نے کہا کہ عدیل افضال سے ایف آئی آر لے لی گئی ہے اور عامر فاروقی سے بات ہوگئی ہے، جبکہ والد سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں آصف، عابد، احمد یا عبداللہ میں سے کسی پر شک ہے۔ والد کی جانب سے کسی پر شک کا اظہار نہ کرنے پر کال کرنے والے نے برہمی کا اظہار کیا۔ جبران ناصر کے مطابق کال کی ریکارڈنگ اور اسکرین شاٹ رجسٹرار کو جمع کرادیے گئے ہیں۔

محمد حسن خان تنولی نے آسٹریلیا سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرایا۔ کمیشن کے سوال پر حسن تنولی نے بتایا کہ وہ او لیولز سے میر رضا اور احمد کے ساتھ تھے اور ان سے دوستی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایٹ فیسٹول میں بھی کارٹ لگایا تھا، جبکہ میر رضا نے 5 لاکھ روپے مانگے تھے جو انہوں نے دے دیئے تھے اور میر رضا نے طے شدہ وقت پر رقم واپس کردی تھی۔

حسن تنولی نے بتایا کہ میر رضا نے انہیں چاکلیٹ کے کنٹینر کے بارے میں بتایا تھا اور پیسوں کی ڈیمانڈ کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا نے انہیں 8 لاکھ اور 25 لاکھ روپے کے چیک دیئے، جبکہ انہوں نے میر رضا کو کیش دیا تھا۔ میر رضا نے کہا تھا کہ چیک کیش کروانا وہ خود کیش ارینج کرلیں گے۔ حسن تنولی کے مطابق میر رضا نے انہیں حیدرآباد کی برانچ اور ڈیفنس میں کلاؤڈ کچن کے بارے میں بھی بتایا تھا۔

حسن تنولی نے بتایا کہ وہ میر رضا اور احمد کو ایک کاروبار کے سلسلے میں اپنے جاننے والے کباڑیے کے پاس لے کر گئے تھے۔ میر رضا کے غائب ہونے پر انہوں نے احمد کو پیسوں کے بارے میں بتایا، جبکہ احمد سے انکل کا نمبر لے کر ان سے کئی بار بات بھی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی کرپٹو کے بارے میں نہیں بتایا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔

حسن تنولی کے مطابق انہیں 10 لاکھ روپے پر 50 ہزار روپے منافع بھی دیا گیا، تاہم منافع کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی اور میر رضا نے اپنی مرضی سے یہ رقم دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 10 لاکھ روپے بینک کے ذریعے دیئے گئے تھے، جبکہ میر رضا نے ان سے وافلکس کی چاکلیٹ کے لیے 75 لاکھ روپے لیے تھے۔ جبران ناصر نے سوال کیا کہ احمد کو 75 لاکھ روپے کے بارے میں کیسے معلوم نہیں تھا، جبکہ احمد بھاردے رقم سے لاعلمی کا کہہ چکے ہیں۔ حسن تنولی نے کہا کہ انہوں نے بھاردے کو رقم واپس کرنے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔

حسن تنولی نے بتایا کہ انہوں نے پیسوں کے تقاضے کے لیے کسی کو کال نہیں کی تھی اور میر رضا کے انتقال کی خبر انہیں پورے سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد معلوم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عدیل افضال سے میر رضا کے انتقال کے بعد ایک بار بات ہوئی، جبکہ ایک ڈی آئی جی نے ویڈیو لنک پر ان کا انٹرویو لیا۔ کمیشن نے حسن تنولی کا بیان مکمل کرلیا۔

وقفے کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اسد علی بٹ روسٹرم پر آگئے۔ اسد علی بٹ نے بتایا کہ وہ ایڈورٹائزنگ سے منسلک ہیں اور پبلک اسپیکنگ کرتے تھے، اسی دوران میر رضا سے ملاقات ہوئی۔ میر رضا کا وافلکس شروع کرنے کا معلوم ہوا تو انہیں اچھا لگا۔ ان کے مطابق میر رضا نے بتایا تھا کہ وہ بھاردے کے ساتھ بزنس کررہے ہیں اور اپنے کاروبار میں سرمایہ کاری کے لیے لوگوں کو مدعو کرنا شروع کیا تھا۔

اسد علی بٹ نے بتایا کہ ان کی میر رضا سے انٹریکشن لائکس اور کمنٹس تک محدود تھی، گزشتہ سال میر رضا سے باضابطہ ملاقات ہوئی۔ میر رضا نے سرمایہ کاری کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ کاغذات ہونے چاہییں۔ میر رضا نے انہیں ڈاکیومینٹس ڈرافٹ کرنے کا کہا، جس کے بعد معاہدے پر سب کے دستخط ہوئے۔ اسد علی بٹ کے مطابق 25 لاکھ روپے کا معاہدہ وافلکس کے نام پر بنایا گیا تھا، جس پر ان کے، میر رضا اور احمد کے دستخط تھے۔ معاہدے کے مطابق وہ 25 لاکھ روپے دیتے اور انہیں 40 لاکھ روپے ملتے۔ میر رضا نے انہیں دو بار ادائیگی کی اور وہ رقم دو ماہ بعد دیتے تھے۔

کمیشن نے بتایا کہ دو گواہوں نے پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے بیانات سے انکار کیا ہے۔ کمیشن نے پولیس سے مزید دستاویزات نہ لینے کی ہدایت بھی کی۔ اسد علی بٹ نے کہا کہ انہوں نے اب تک تعزیت نہیں کی اور والدین سے اپنی اور اپنی فیملی کی طرف سے تعزیت کرتے ہیں۔

کمیشن نے بتایا کہ احسان انیس شمسی نے اپنا بیان بھجوایا ہے۔ احمد حسن نے بتایا کہ میر رضا کی ایپل واچ سے احمد عثمان کا نام ملا تھا، جبکہ احمد اور عثمان دو الگ لوگ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عثمانی بوزئی ان کے دوست ہیں اور ان کے ریفرنس سے میر رضا اور احمد سے ملاقات ہوئی تھی۔ احمد حسن کے مطابق انہوں نے 30 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔ کمیشن نے انہیں دوبارہ طلب کرنے کا کہا۔

کمیشن نے ہیڈ محرر گلستان جوہر ذیشان حیدر کو بھی طلب کیا۔ ذیشان حیدر نے بتایا کہ انہوں نے اپنے طور پر معلومات لیں۔ ان کے مطابق ایس ایچ او کامران قریشی نے کہا کہ باڈی موو کروا دو، تاہم انہوں نے کہا کہ پہلے تلاش ایپ سے شناخت ہوجائے تو رپورٹ بنانے میں آسانی ہوگی۔ ان کے مطابق باڈی کو نیچے ایمبولنس میں منتقل کیا گیا تو تلاش ایپ کا آپریٹر موقع پر پہنچا۔

ذیشان حیدر نے بتایا کہ میر رضا کا بایاں ہاتھ بہت سوجا ہوا تھا اور جلد گلی ہوئی تھی، جبکہ دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے پور جامنی رنگ کے ہورہے تھے۔ تلاش ایپ کے آپریٹر نے 5 سے 7 منٹ تک شناخت کی کوشش کی لیکن شناخت نہ ہوسکی۔ شناخت نہ ہونے پر تلاش ایپ آپریٹر عارف نے ہاتھوں کی تصاویر لیں۔ ایدھی رضاکار باڈی نیچے لے کر آئے تھے اور انہوں نے ہی اسپتال منتقل کیا۔

ذیشان حیدر کے مطابق اے ایس آئی ندیم مغل نے شام میں پوسٹ مارٹم کے نمونے مال خانے میں رکھنے کا کہا، تاہم انہوں نے بتایا کہ یہ فیروز آباد تھانے کا کیس ہے، نمونے انہیں دیے جائیں۔ انہوں نے امانتاً نمونے رکھ لیے لیکن فیروز آباد کے تفتیشی افسر نہیں آئے۔ 30 جولائی کو انہوں نے فیروز آباد کے تفتیشی افسر کو کال کی، لیکن وہ پھر بھی نہیں آئے۔ بعدازاں 30 جولائی کو دوپہر 3 بجے اے ایس آئی ندیم مغل کو نمونے دے کر فیروز آباد دینے کی ہدایت کی گئی۔

ذیشان حیدر نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے کچھ نہیں ملا۔ کمیشن نے ان کے بیان پر کہا کہ آپ کو ترقی ملنی چاہیے اور آپ نے بہت اچھا بیان دیا۔ ذیشان حیدر نے بتایا کہ مال خانے میں چیزیں رکھنے کے ساتھ انٹریاں بھی بنائی جاتی ہیں اور تفتیشی افسران سے دستخط بھی لیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کرائم سین محفوظ نہ بنانے پر معطل کیا گیا۔

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو طلب کیا اور صحافی کا موبائل فون چھیننے سے متعلق وضاحت طلب کی۔ کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کے جواب پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ کمیشن کے بجائے سندھ ہائیکورٹ ہوتی تو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جاتا۔ ڈاکٹر اسامہ نے معذرت کی۔ کمیشن نے موبائل فون چھیننے والے شخص کی شناخت اور نام بتانے کا مطالبہ کیا، جس پر ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق وہ قانون کے طلبہ تھے۔

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے کہا کہ انہیں ویڈیو دکھائی جاسکتی ہے اور جرمانہ یا جیل بھی بھیجا جاسکتا ہے۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جس طرح لوگ ان کے آگے پیچھے چلتے ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ وہ صرف ایک کاشف کو جانتے ہیں جو ان کے علاقے میں رہتا ہے۔ کمیشن نے کاشف کو نوٹس جاری کرنے کا کہا اور ڈاکٹر اسامہ کے والد سے کہا کہ ان کے بیٹے کو سمجھائیں، یہ کسی بڑی مشکل میں ہوسکتے ہیں، ان کا ایڈریس دیں اور انہیں آئندہ اجلاس میں پیش کریں۔

ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ ان کی فیملی چاہتی ہے کہ ان کی ٹائم لائن بھی کمیشن میں سنی جائے۔ کمیشن نے کہا کہ آپ ایک کے بعد ایک جھوٹ بولتے رہے اور آپ کی کوشش تھی کہ ایک سینیئر پولیس سرجن کو بس کے سامنے پھینک دیں۔ کمیشن نے کہا کہ وہ جھوٹ سننے کے لیے نہیں بیٹھے اور ڈاکٹر اسامہ کے جھوٹ پولیس سرجن کے بیان میں سامنے آئے۔ کمیشن کے مطابق ڈاکٹر اسامہ نے اپنے بیان میں ہر بات کی تردید کی۔

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کے نام سے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر سمیہ کے خلاف چلنے والی پوسٹس اور ڈاکٹر اسامہ اور ڈاکٹر سمیہ کی گفتگو کے اسکرین شاٹس کا بھی ذکر کیا۔ ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ ان کے پاس بھی اسکرین شاٹس موجود ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ اب ان کی کوئی بات نہیں سنی جائے گی اور اگر کچھ کہنا ہے تو درخواست دیں۔

ڈاکٹر اسامہ کے والد روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ڈاکٹر اسامہ نروس ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ 19 اگست کو پولیس نے ان کا فون لے لیا تھا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ جب انہیں بلایا گیا تھا تو اس وقت کیوں نہیں بتایا۔ کمیشن نے کہا کہ اگر کچھ لیک ہوا تو وہ ڈاکٹر اسامہ کی طرف سے نہیں بلکہ پولیس کی طرف سے ہے؟ ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے، ممکن ہے ایسا ہو۔

جبران ناصر نے بتایا کہ تمام گواہوں کے موبائل فون پولیس نے پاس ورڈ سمیت لے لیے ہیں، کسی کے فون کو سیل نہیں کیا گیا اور نہ ہی میمو بنایا گیا۔

ذیشان حیدر نے بتایا کہ وہ تھانے کے دفتری امور، مال خانے اور اسلحہ کے امور دیکھتے ہیں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ جب ان کی ڈیوٹی تفتیش کی نہیں تو انہیں تھانے میں تفتیش پر کیوں لگایا گیا۔ ذیشان حیدر نے بتایا کہ سفاری پارک میں کراچی پریس کلب کا پروگرام تھا اور وہ وہاں نفری تعیناتی کے لیے موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ موبائل افسر نے کہا تھا کہ گن شارٹ باڈی ہے، جس پر انہوں نے تلاش ایپ کے آپریٹر کو فون کرکے بلایا۔

کمیشن کے سوال پر ذیشان حیدر نے بتایا کہ انہوں نے باڈی اوپر جاکر نہیں دیکھی بلکہ نیچے سے ہی دیکھی تھی۔

میر رضا قتل کیس کی جوڈیشل کمیشن نے آج کی کارروائی مکمل کرلی۔ کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد کو 17 ستمبر کو طلب کررکھا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے