• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 9:16 شام
  • پاکستان

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

فرقہ واریت جدید ہندوستان کا ایک المیہ رہا ہے۔ آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد مسلسل اس نے ہماری قومی زندگی میں ایک رجعت پسندانہ اور نفاق انگیز کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی فرقہ واریت مختلف شکلوں میں ہمارے ملک کی جمہوریت اور سالمیت کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

اگرچہ بظاہر فرقہ واریت کے اسباب مذہبی اختلافات نظر آتے ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ فرقہ پرستی کے محرکات میں معیشت اور سیاست کا بڑا دخل ہے، جب سیاسی مفاد کے حصول کے لیے کوئی خاص فرقہ شعوری طور پر مذہبی و ثقافتی تفریق یا امتیاز کی بنیاد پر سیاسی مطالبات پیش کرتا ہے تو فرقہ وارانہ شعور ایک سیاسی نظریے کی شکل میں ابھرتا ہے۔ مختلف مذاہب والے طبقاتی سماج میں سماجی کشیدگی مختلف طبقوں کے باہم اپنے اپنے مفاد کے حصول کی تگ و دو پر مبنی ہوتی ہے۔ اسی کشیدگی کو جب نظریاتی سطح پر مذہبی جامہ پہنا دیا جاتا ہے تو سیات مذہب میں مدغم ہو جاتی ہے اور فرقہ واریت جنم لیتی ہے۔

ہندوستان میں فرقہ پرستی کی ابتدا کا سراغ عام طور پر مسلم حکمرانوں کے عہد میں لگایا جاتا ہے، لیکن اس میں حقیقت کم اور تعصب زیادہ ہے۔ مسلم حکمرانوں کے عہد میں فرقہ واریت بالکل نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس عہد میں مذہبی اختلافات کی جو شکل تھی وہ بالکل وہی تھی جو ایک فاتح اور مفتوح کے درمیان ہوا کرتی ہے۔ مغلوں نے اپنی سیاست کو مذہبی رنگ دے کر خود اپنی حکومت کے خلاف ہندوستانی عوام میں بغاوت کا بیج بونا نہیں چاہا۔ اورنگ زیب کے نام نہاد مذہبی تعصب کے باوجود اس کے دور حکومت میں ہی ہندو افسروں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ اس کے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ مندروں کو گرائے جانے کے قصوں کے باوجود اس کے بھی ثبوت ہیں کہ اس نے کئی ہندو مندروں کو کثیر مالی امداد پہنچائی۔

مذہبی رواداری اس عہد کے غیر مسلم حکمرانوں اور عوام میں بھی تھی۔ بقول ڈاکٹر بین چندرا: ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوستانہ تعلقات اٹھارویں صدی کی زندگی کی ایک بڑی خصوصیت تھی، گرچہ ہم عصر حکمراں آپس میں مستقل لڑتے رہے لیکن ان کی لڑائیاں اور صلحیں مذہبی تفریق پر کبھی منحصر نہ تھیں۔ دوسرے لفظوں میں ان کی سیاست بنیادی طور پر سیکولر تھی۔ چھوٹے بڑے سبھی لوگ ایک دوسرے کا احترام و عزت کرتے تھے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے آپسی تعلقات دوستانہ تھے۔ یہ خاص کر گاؤں اور شہروں کی عام جنتا کے لیے بہتر تھا جو بلا امتیازِ مذہب و ملّت ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں پوری طرح حصہ لیتی تھی۔ (از ماڈرن انڈیا)

اس عہد میں سماجی اور ثقافتی شعبے میں عوام کے درمیان دوستی اور محبت کا جذبہ تھا، ایک مشترک ہندو مسلم تہذیب ترقی کر رہی تھی۔ ہندو ادیب فارسی میں اور مسلمان ادیب ہندی، بنگلہ اور دوسری صوبائی زبانوں میں اپنی تخلیقات پیش کر رہے تھے۔ مذہبی شعبے میں بھگتی، اور صوفی تحریک ہندو مسلم عوام کے اتحاد کی واضح مثال تھیں۔ بڑی تعداد میں ہندو لوگ مسلم صوفیوں اور فقیروں سے عقیدت رکھتے تھے، اور مسلمان ہندو دیوتاؤں اور سنتوں کا احترام کرتے تھے۔ اس ہندو مسلم اتحاد کا بے مثال ثبوت ۱۸۵۷ء کی بغاوت تھی، جو انگریزی حکومت کے ظلم و استحصال کے خلاف ہندوستانی عوام کے ردعمل کے طور پر سامنے آئی تھی۔

ہر چند کہ ہندوستان میں فرقہ پرستی کا آغاز ۱۸۵۷ء کے بعد انگریزوں کی کی divide and rule پالیسی کا نتیجہ تھا، لیکن اس سلسلے میں مذہبی مصلحین نے بھی غیر شعوری طور پر کچھ کم کارنامے انجام نہیں دیے۔

(مولانا سیّد سلیمان ندوی کی دینی و علمی خدمات اور شخصیت پر مبنی مقالے سے اقتباس)

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے