• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 12:58 شام
  • Australia

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

لائم اوفلاہرٹی آئرلینڈ کا اشتراکی نظریات رکھنے والا ایسا ادیب تھا جس نے غربت اور معاشی مسائل کا مقابلہ کرتے ہوئے نوعمری اور جوانی کاٹ دی، لیکن وہ اپنی محنت، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت دنیا میں بطور ناول نگار اور ڈرامہ نویس پہچانا گیا۔ اوفلاہرٹی کی مقبولیت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اس نے اپنی مادری زبان اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے کام کیا۔

اوفلاہرٹی ذہین اور مستقل مزاج تھا۔ اسے شروع ہی سے ادب سے دل چسپی پیدا ہوگئی تھی اور وہ اپنی تہذیب و ثقافت کا بھی بڑا دلدادہ تھا۔ اوفلاہرٹی نے اپنی مادری زبان میں‌ خوب لکھا مگر ساتھ ہی انگریزی میں بھی ادب تخلیق کیا۔ اس کی تخلیقات کی خاص بات یہ تھی کہ وہ ان میں عام لوگوں کے نقطۂ نظر کو خوبی سے بیان کرتا ہے۔ اس کے افسانے آئرلینڈ کے عام لوگوں کی زندگی کا احاطہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آئرلینڈ میں مقبول ہوا۔

اوفلاہرٹی 28 اگست 1896ء کو پیدا ہوا۔ اس کا بچپن غربت اور معاشی بدحالی دیکھتے ہوئے گزرا۔ اسی لیے وہ کئی محرومیوں کا شکار رہا۔ اسکول میں تعلیم کی تکمیل کے بعد اس زمانے کے رواج کے مطابق اوفلاہرٹی نے مذہبی درس بھی لیا۔ والدین کی خواہش تھی کہ وہ مذہبی پیشوا بن کر تبلیغ کا فریضہ انجام دے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 1917ء میں اوفلاہرٹی کو آئرش گارڈز میں بھرتی ہونا پڑا اور دوسرے نوجوانوں کی طرح وہ ایک محاذِ جنگ پر روانہ ہوگیا۔ یہ پہلی جنگِ عظیم کا زمانہ تھا جو لائم اوفلاہرٹی کے لیے خاصا پُرصعوبت اور مشکل ثابت ہوا۔ ایک موقع پر لڑتے ہوئے وہ زخمی ہوگیا اور خاصا عرصہ زیرِ علاج رہا۔ اگرچہ وہ ایک فوجی جوان تھا، لیکن نہ تو وہ سخت دل تھا، نہ ہی لڑاکا۔ اس کے اندر ایک فن کار چھپا تھا۔ وہ ایک تخلیقی ذہن رکھنے والا حسّاس طبع نوجوان تھا۔ جنگ اور خون ریزی اس کے لیے ایک بھیانک خواب تھا۔ وہ مجبوراً آئرش گارڈ کا حصّہ بنا تھا۔ اس جنگ نے اس کے ذہن پر بہت برا اثر ڈالا تھا۔ 1933ء میں اسے دماغی دورہ پڑا جس کا ایک سبب جنگ اور اس میں ہونے والی وہ ہلاکتیں تھیں جو لائم اوفلاہرٹی نے دیکھی تھیں۔ تاہم جنگ کے بعد اس نے اپنا وطن آئرلینڈ چھوڑ دیا اور امریکہ منتقل ہوگیا۔ وہاں کچھ عرصہ اوفلاہرٹی نے ہالی وڈ میں بھی کام کیا۔ امریکہ ہجرت کرنا لائم اوفلاہرٹی کی زندگی میں ایک خوش گوار تبدیلی لایا۔ کہا جاسکتا ہے کہ وہیں اس کی ادبی زندگی کا صحیح معنوں میں آغاز ہوا۔ اوفلاہرٹی 7 ستمبر 1984ء کو چل بسا تھا۔

1923 میں جب اوفلاہرٹی 27 سال تھا تو اس کی پہلی شارٹ اسٹوری اور ایک ناول شایع ہوچکا تھا۔ بعد میں امریکہ میں رہتے ہوئے اوفلاہرٹی نے انگریزی اور آئرش زبان میں ناول اور کہانیاں لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے متعدد ناول منظرِ‌عام پر آئے اور قارئین نے انھیں پسند کیا۔ 1950ء میں اوفلاہرٹی کی آخری تخلیق شایع ہوئی تھی۔

لائم اوفلاہرٹی نے شاعری بھی کی۔ لیکن اس کی پہچان کہانیاں اور ناول ہیں۔ اس کے ناولوں میں The Black Soul، The Informer ، The Assassin ، Mr. Gilhooley و دیگر شامل ہیں جن میں سے دی انفارمر سے ماخوذ کہانی کو فلمایا بھی گیا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے