• ستمبر 23, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 23, 2026 5:29 شام
  • پاکستان

سیانا کوا گولفر بن بیٹھا! (دلچسپ ویڈیو دیکھیں)

1980 کے ’’AI‘‘ وائرل ٹرینڈ نے 45 سال سے مفرور خاتون چور کو کیسے پکڑوایا؟

13 افراد کا سفاک قاتل 40 سال بعد جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار

6 سالہ بچی نے روبک کیوب کا ورلڈ ریکارڈ دو بار توڑ دیا

نئی دہلی(23 ستمبر 2026): دہلی پولیس نے سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ سیلفیز کو 1980 کی دہائی کے انداز میں ڈھالنے والا وائرل اے آئی ٹرینڈ محض ایک شوق نہیں بلکہ سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ان دنوں انسٹاگرام اور ایکس پر یہ ٹینڈ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جہاں صارفین اپنی سیلفیز چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی ٹولز پر اپ لوڈ کر کے پرانے دور کے ہیئر اسٹائل، ملبوسات، نیون لائٹنگ اور ونٹیج فلم گرین والی تصاویر تیار کروا رہے ہیں۔

یہ تصاویر انتہائی حقیقت پسندانہ دکھائی دیتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ٹرینڈ بے حد مقبول ہو رہا ہے۔ تاہم، دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ معصومانہ تفریح یا پرانی یادوں کے نام پر یہ ٹرینڈ صارفین کو شناخت کے غلط استعمال، دھوکہ دہی اور بلیک میلنگ کا شکار بنا سکتا ہے۔

ٹرینڈ کیسے کام کرتا ہے اور اس کے خطرات کیا ہیں؟

صارفین ایک صاف ستھری سیلفی اپ لوڈ کرتے ہیں اور اے آئی کو پرامپٹ دیتے ہیں کہ وہ اسے 1980 کی دہائی کے انداز میں تبدیل کر دے۔ اے آئی چہرے کے خدوخال کو برقرار رکھتے ہوئے بال، لباس، پس منظر اور ٹیکسچر تبدیل کر دیتا ہے۔

دہلی پولیس کے مطابق، تصاویر میں صرف چہرہ نہیں بلکہ اس کا میٹا ڈیٹا، تاریخ، ڈیوائس کی معلومات اور پس منظر میں موجود گھر کے نمبر، گاڑیوں کی نمبر پلیٹس یا سڑک کے سائن بورڈ جیسی حساس تفصیلات بھی شامل ہو سکتی ہیں، جو سائبر کرمنلز کے ہاتھ لگ سکتی ہیں۔

تصاویر کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر

* تصاویر اپ لوڈ کرنے سے پہلے پرائیویسی اور ڈیٹا کنٹرول کی سیٹنگز لازمی چیک کریں۔

* مناسب ہو تو عارضی چیٹ (Temporary Chat) کا استعمال کریں، کیونکہ اوپن اے آئی کے مطابق عارضی چیٹس ماڈل ٹریننگ کے لیے استعمال نہیں ہوتیں اور 30 دن کے اندر ڈیلیٹ ہو جاتی ہیں۔

* اپ لوڈ کرنے سے پہلے تصویر کے غیر ضروری پس منظر کو کراپ (Crop) کر دیں۔

* گھر کے نمبرز، گاڑی کی پلیٹس اور دیگر شناخت ظاہر کرنے والی معلومات کو بلر کر دیں۔

* اپنی شناخت کے دستاویزات، نجی ریکارڈ یا کسی دوسرے شخص (خصوصاً بچوں) کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر ہرگز اپ لوڈ نہ کریں۔

* نامعلوم ویب سائٹس یا ایپس پر اے آئی فلٹرز کے استعمال سے گریز کریں۔

دہلی پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ تصاویر کا غلط استعمال جعلی پروفائلز، فراڈ اور سائبر کرائم کا سبب بن سکتا ہے۔ بھارت میں کسی بھی قسم کے سائبر فراڈ کی صورت میں متاثرہ افراد فوری طور پر ہیلپ لائن نمبر 1930 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے