اسمارٹ گلاسز : خواتین کی خفیہ ویڈیوز کیخلاف اہم اقدام
چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو
ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا
نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکا دباؤ اور یکطرفہ پالیسی ختم کرے تو ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے، رہبر کی شہادت کے بعد قاتلوں کے ساتھ مذاکرات آسان نہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بھارتی ٹی وی کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بھی بات چیت کی جاسکتی ہے، ایران کا مطالبہ ہے امریکا پابندیاں ختم کرے اور یکطرفہ پالیسی چھوڑے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا دباؤ کے ذریعے مذاکرات نہ کرے، جوہری مذاکرات عالمی قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت ہونے چاہئیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا جھوٹ بول رہا ہے، صرف پروپیگنڈا کر رہا ہے، ایران این پی ٹی کا رکن ہے، جوہری پروگرام پر سب سے زیادہ نگرانی رہی۔
ایران بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں کام کر رہا تھا اور آج بھی کر رہا ہے، جوہری ہتھیار بنانا چاہتے تو این پی ٹی کے رکن نہ بنتے، امریکہ ایران پر حملے کو جائز ثابت کرنے کیلئے بہانے تراش رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش نہیں کی، آخر کون سا ثبوت ملا کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے؟ ایران کئی مرتبہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ چکا ہے، معاہدے پر دستخط کے بعد اسے پھاڑ دیا گیا، اب دوبارہ مذاکرات کیسے کریں؟
انہوں نے کہا کہ ہمیں کیسے معلوم ہو اس بار کیے گئے وعدوں اور معاہدوں پر قائم رہیں گے؟ ایران جنگ نہیں چاہتا، کبھی جارحیت کا راستہ اختیار نہیں کیا، اسرائیل خود این پی ٹی کا رکن نہیں، پھر اس کے جوہری ہتھیاروں پر اعتراض کیوں نہیں؟
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں بے گناہ انسانوں کو قتل کر رہا ہے، دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، اسرائیل کے ظالمانہ رویے اور امریکی اقدامات کے مخالف ہیں۔
مکہ معاہدے کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے، ترک صدر
برکس اور ہمسایہ ممالک ایران کیلئے تجارت اور روابط کے راستے ہیں، پابندیاں ختم کی جائیں، پابندیاں عوام کو غربت، بھوک اور بیماری میں مبتلا کرتی ہیں۔
