• ستمبر 10, 2026
  • Last Update ستمبر 10, 2026 3:58 صبح
  • پاکستان

ستمبر 1965کا معرکہ صرف جدید ترین عسکری ہتھیاروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ وہ باطل کی مادیت کے مقابلے میں ایمانی حرارت کی فتح کا دن تھا۔

پاکستان کی یہ مقدس سرزمین صدیوں پر محیط ایمانی غیرت و حمیت، شہداء کے سرخ لہو اور جلیل القدر علمائے کرام کے تقویٰ، راتوں کی زاری، علمی و فکری آبیاری اور لازوال قربانیوں کا وہ عظیم مظہر ہے جسے قدرت نے اسلام کا مضبوط قلعہ بنایا ہے۔

جب بھی ستمبر کا مبارک و مسعود مہینہ افقِ عالم پر نمودار ہوتا ہے تو اسلام اور پاکستان کے خلاف دیس اور پردیس میں گھناؤنی سازشیں بننے والے دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں کیونکہ ستمبر کی ہوا کا ہر جھونکا، ہر لمحہ اور صبح و شام ہمیں ہماری جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں پر لگے اس فولادی پہرے کی یاد دلاتی ہے جو خونِ جگر سے تیار کیا گیا ہے۔ جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں پوری قوم یوم دفاع پاکستان منا رہی ہے اور یوم دفاع، عقیدہ ختم نبوت منانے کی تیاریاں کررہی ہے، ان حوالوں سے تقریبات کا سلسلہ کراچی سے خیبر تک اور بیرون ملک پورا ستمبر جاری رہیں گی۔

ان ایام کو منانے کا سب سے بڑا مقصد نسل نو کو ان ایام منانے کے پس منظر سے آگاہ کرنا ہے، انھیں بتانا ہے کہ تحریکِ پاکستان کے ابتدائی ایام سے لے کر تعمیرِ پاکستان اور پھر دفاعِ پاکستان سے لے کر آج استحکامِ پاکستان تک، علمائے حق کا سرفروشانہ اور قائدانہ کردار تاریخ کا وہ درخشاں ترین باب ہے جسے تعصب کی کوئی سیاہی مٹا نہیں سکتی۔

برصغیر کے مسلمانوں کو ہندو بنئیے کے معاشی و مذہبی تسلط سے بچانے اور ایک آزاد، خودمختار اسلامی مملکت کے قیام کے لیے شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، حکیم الامت کے بااعتماد رفیق مولانا ظفر احمد عثمانی، مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع اور ان کے جلیل القدر رفقاء نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں جو تاریخی و مجاہدانہ جدوجہد کی، وہ پاکستان کی تخلیقی بنیاد و اساس بن گئی۔

اکابرینِ امت نے خانقاہوں اور مدرسوں کی مسندوں کو چھوڑ کر گلی گلی اور کوچے کوچے میں دو قومی نظریے کی شرعی اور منطقی حقانیت کا علم بلند کیا۔ انھوں نے امت کو باور کرایا کہ مسلمانوں کی بقا صرف اور صرف ایک ایسی مستقل ریاست میں ہے جہاں کی فضا میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا پرچم لہرائے اور شریعت مطہرہ کا عملی نفاذ ہو۔

قیامِ پاکستان کے بعد جب سیکولر اور مغربی ذہنیت کے حامل عناصر اس پاک سرزمین کو اس کے اصل مقصد سے بھٹکانے کی کوششوں میں مصروف تھے، تو انھی علمائے حق نے ڈٹ کر اور تاریخی 22 نکات مرتب کر کے 'قراردادِ مقاصد' کا آئینی شاہکار تیار کروایا، جس نے پاکستان کو ہمیشہ کے لیے ایک نظریاتی اور اسلامی ریاست کی پٹری پر گامزن کر تو دیا مگر سیکولر اور لبرلز نے اپنے آقاؤں کے نمک کا حق ادا کرتے ہوئے شریعت مطہرہ کے نفاذ کا رستہ روکنے کی ہر ممکنہ کوشش کی۔

ستمبر 1965کا معرکہ صرف جدید ترین عسکری ہتھیاروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ وہ باطل کی مادیت کے مقابلے میں ایمانی حرارت کی فتح کا دن تھا۔ 6 ستمبر کو جب مکار اور بزدل دشمن ہندوستان نے رات کی تاریکی میں لاہور پر قبضے کا شوم و ناپاک خواب دیکھ کر حملہ کیا تو منبر و محراب کے پاسبان صرف حجروں اور دعاؤں تک محدود نہیں رہے بلکہ انھوں نے پوری قوم کے رگ و پے میں جہاد کا وہ تلاطم خیز جذبہ پھونک دیا جس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ علمائے حق نے مساجد، خانقاہوں اور خطبات کے ذریعے ایسی ایمانی روح بیدار کی کہ سرحدوں پر کھڑے پاک فوج کے مجاہدوں کے سامنے باطل کے ٹینک اور بمبار طیارے موم کا ڈھیر بن گئے پوری قوم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی۔

لاہور اور سیالکوٹ کی سرحدوں کو جب دشمن کے خون سے رنگین کیا جا رہا تھا تو اس کے پیچھے ہمارے اکابرین، حفاظ اور علماء کی وہ لرزہ خیز تلاوتیں، دعائیں اور بیدار کن خطبات اور میدان عمل میں نکلنا تھا۔ جنھوں نے ہر جوان کو قرون اولیٰ کے مجاہدوں کا روپ دھارنے پر راغب و مجبور کر کے میدان میں اتارا، جس کے نتیجے میں تاریخ کا وہ درخشندہ ترین اور تاریخی لمحات سے بھرپور دن آیا جسے 7 ستمبر 1974 کہا جاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی دن ہے جب پاکستان کی زمین پر تاجدارِ ختم نبوت حضرت محمد مصطفی کی ناموس پر ایسا مضبوط، ناقابلِ تسخیر اور تاریخی پہرہ بٹھایا گیا جس نے کفر کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا۔

عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت کے لیے مجاہدِ ملت حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، فقیہِ عصر مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی اور ان کے عظیم رفقاء اور اولیاء اللہ نے جس سیاسی تدبر، علمی و منطقی دلائل اور بے باک قیادت کا مظاہرہ کیا، اس نے دشمن کے ہر مکر و فریب کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ علمائے حق نے اس مقدس مقصد کے لیے قید و بند کی دردناک صعوبتیں برداشت کیں، جیلوں کی تاریک کوٹھریوں کو رونق بخشی، لاٹھیاں اور گولیاں کھائیں اور اپنے جگر گوشوں کا خون تک نچھاور کر دیا لیکن ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے۔ ایوانِ اقتدار سے لے کر سڑکوں تک علمائے کرام کی اس لازوال جدوجہد اور قومی اسمبلی کے فلور پر مجاہد و محافظ عقیدہ ختم نبوت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کے علمی اور عقلی دلائل کے نتیجے میں قومی اسمبلی نے متفقہ فیصلہ کر کے عقیدہ ختم نبوت کی حقانیت پر مہر لگا دی۔

اس تاریخی فیصلے نے جہاں اسلام کے بنیادی و اساسی عقیدے کو آئینی تحفظ دیا، وہاں پاکستان کے خلاف اندرونی و بیرونی سطح پر بنے جانے والے سازشوں کے تمام تانے بانے بکھیر کر رکھ دیے۔ آج کے موجودہ، پیچیدہ اور انتہائی سنسنی خیز تناظر میں جب پاکستان کو ففتھ جنریشن وارفیئر، نظریاتی انتشار، اقتصادی دباؤ اور بیرونی آقاؤں کی ایماء پر ملک میں انارکی اور فرقہ واریت پھیلانے والے اندرونی فتنوں کا سامنا ہے، علمائے حق ہی استحکامِ پاکستان، بقائے ملت اور نظریاتی سرحدوں کے مضبوط ترین محافظ بن کر کھڑے ہیں۔

ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہزاروں دینی مدارس اور خانقاہیں نہ صرف لاکھوں بے سہارا بچوں کو مفت تعلیم، خوراک اور اخلاقی تربیت فراہم کر کے ریاست کا ایک بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں بلکہ نسلِ نو کے سچے ایمان اور حب الوطنی کی ایسی آبیاری کر رہی ہیں کہ کوئی دشمن انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکے۔ دہشت گردی، فتنہ تکفیر اور وطنِ عزیز کے خلاف اٹھنے والی ہر باغیانہ صدا کے خلاف تمام مسالک کے علماء نے باطل کی کمر توڑ دی ہے اور افواجِ پاکستان کی پشت پناہی کو اپنا دینی و اخلاقی فرض قرار دیا ہے۔ انھی جلیل القدر علماء کی راتوں کی زاری، مساجد و مدارس سے بلند ہونے والی قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں اور باطل و جابر حکمرانوں کے سامنے کلمۂ حق کہنے کا بے باک جذبہ ہی وہ معنوی و روحانی حصار ہے جس کی برکت سے یہ پاک سرزمین ہر بلا، ہر فتنے اور ہر سازش سے محفوظ و مامون ہے۔

ستمبر کا یہ عظیم الشان مہینہ قیامت تک اس بات کی گواہی دیتا رہے گا کہ جب تک اس پاک مٹی پر قرآن و سنت کے یہ سچے پاسبان، تاجدارِ ختمِ نبوت کے پروانے اور علمائے حق کے جانشین موجود ہیں، پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا اور جب افواج پاکستان کے جری جوانوں کے جانوں میں جان ہے پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کو پامال کرنے کا کوئی دشمن سوچ بھی نہیں سکتا۔ انشاء اللہ میلی آنکھ سے دیکھنے والا ہر دشمن نیست و نابود ہوتا رہے گا اور پرچمِ ستارہ و ہلال تا ابد پوری آب و تاب کے ساتھ لہراتا رہے گا۔ مگر پاکستان میں جب تک اپنی وجہ تخلیق و قیام "شریعت مطہرہ" کا نفاذ نہیں ہوگا مقتدرہ اور پاکستانی قوم اس ذمے داری سے بروز محشر جان نہ نہیں چھڑا سکیں گے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ صرف موجودہ نہیں قیام پاکستان سے آج تک تمام آزمائے ہوئے سسٹم و نظام فیل ہوچکے ہیں مگر حل 32 صوبوں کا قیام نہیں صرف اور صرف شریعت مطہرہ کا نفاذ ہے اس لیے جو بندہ جس پر ملکف ہے وہ کرکے اپنے حصے کا کام کرکے اللہ رب العزت کے دربار میں بری الزمہ ہوجائے ورنہ پکڑ بہت سخت ہوگی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے