• ستمبر 14, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 14, 2026 12:21 شام
  • پاکستان

زیوریو 2020 کے یو ایس اوپن فائنل میں آسٹریا کے ڈومینک تھیم کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے

جرمنی کے ٹاپ سیڈ الیگزینڈر زیوریو نے امریکی کھلاڑی بین شیلٹن کو شکست دے کر یو ایس اوپن 2026 کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

زیوریو نے سخت مقابلے کے بعد شیلٹن کو 3-6، 6-7(2)، 7-5، 2-6 سے ہرایا اور چھ سال قبل ضائع ہونے والے سنہری موقع کا ازالہ کر دیا۔

Alexander Zverev is your 2026 US Open champion! 🏆 pic.twitter.com/7OuXVKUas9 — US Open Tennis (@usopen) September 13, 2026

Alexander Zverev is your 2026 US Open champion! 🏆 pic.twitter.com/7OuXVKUas9

زیوریو 2020 کے یو ایس اوپن فائنل میں آسٹریا کے ڈومینک تھیم کے خلاف دو سیٹس کی برتری حاصل کرنے کے باوجود کامیابی سے محروم رہ گئے تھے تاہم اس بار وہ زیادہ مضبوط ذہنی تیاری کے ساتھ میدان میں اترے۔

Zverev’s name has been added to the wall of champions! ✍️ pic.twitter.com/HsuxxTFAWW — US Open Tennis (@usopen) September 13, 2026

Zverev’s name has been added to the wall of champions! ✍️ pic.twitter.com/HsuxxTFAWW

رواں سال جون میں فرنچ اوپن جیت کر پہلی گرینڈ سلیم کامیابی حاصل کرنے والے جرمن کھلاڑی نے فائنل میں شیلٹن کے خلاف فیصلہ کن کھیل پیش کیا۔

امریکی شائقین کو امید تھی کہ آٹھویں سیڈ بین شیلٹن 23 سال بعد کسی امریکی مرد کھلاڑی کو گرینڈ سلیم ٹائٹل دلائیں گے لیکن وہ اپنی بہترین فارم کا مظاہرہ نہ کر سکے۔

میچ کا دلچسپ لمحہ اس وقت پیش آیا جب زیوریو کو میچ جیتنے کا فوری طور پر احساس ہی نہ ہوا اور امپائر کے اعلان کے بعد بھی وہ بیس لائن کی طرف سروس کرنے کے لیے بڑھ گئے، پھر تماشائیوں کی جانب سے کھڑے ہو کر داد دینے پر انہیں کامیابی کا ادراک ہوا۔

HE DIDN'T REALIZE HE'D WON 🏆 Alexander Zverev exorcises his 2020 demons and defeats Shelton 6-3, 7-6, 5-7, 6-2 to win his first US Open title! pic.twitter.com/f0Cnl2xvgI — US Open Tennis (@usopen) September 13, 2026

HE DIDN'T REALIZE HE'D WON 🏆 Alexander Zverev exorcises his 2020 demons and defeats Shelton 6-3, 7-6, 5-7, 6-2 to win his first US Open title! pic.twitter.com/f0Cnl2xvgI

زیوریو کو فاتح کی حیثیت سے ریکارڈ 55 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم بھی ملی۔

میچ کے بعد انہوں نے بتایا کہ جب ان میں 4 سال کی عمر میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئی اور ڈاکٹرز نے کہا کہ وہ کھیلوں کی سرگرمیوں میں ہی حصہ لے سکیں گے لیکن ان کی والدہ نے کہا کہ ’میرا بیٹا جو کرنا چاہے گا وہی کرے گا، یہ بیماری اس کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرے گی‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی والدہ سے زیادہ مضبوط انسان نہیں دیکھا۔

For every kid who was told “you can’t.” ❤️ pic.twitter.com/N5pZamAb88 — US Open Tennis (@usopen) September 13, 2026

For every kid who was told “you can’t.” ❤️ pic.twitter.com/N5pZamAb88

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے