اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف اقدامات کے سلسلے میں 50 سے زائد ممالک سے بات چیت کی ہے
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کو معاشی طور پر عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں نتائج دے رہی ہیں۔
ان کے مطابق امریکی حکام نے مختلف ممالک سے رابطے کرکے ایران کے ساتھ اقتصادی روابط محدود کرنے کے لیے اقدامات پر زور دیا ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ان کی ہدایت پر امریکی ٹیموں نے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کیا اور ایرانی حکومت کے خلاف اقدامات پر بات چیت کی۔ ان کے بقول ان کوششوں کے نتیجے میں ایران کی ایئرلائنز اور بینکاری شعبے کے حوالے سے نئی پابندیاں اور رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ نے بتایا کہ ترکیہ اور عمان نے ایرانی نجی ایئرلائن ’ماہان ایئر‘ کی پروازیں روک دی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے ایرانی ایئرلائنز کی تمام پروازیں معطل کردی ہیں۔ دبئی ایران کی ایئرلائنز کے لیے ایک اہم بین الاقوامی منزل رہا ہے، جہاں ایرانی مسافروں کی بڑی تعداد کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط بھی موجود ہیں۔
ایران کے بینکاری شعبے پر بھی دباؤ بڑھایا گیا ہے۔ حالیہ اقدامات کے تحت متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے ایران کے بینک ملی کی شاخوں سے آنے اور جانے والی بعض مالی لین دین کی سرگرمیاں روک دی ہیں، جبکہ ترکیہ نے ایرانی بینک ملت کے لائسنس سے متعلق بھی کارروائی کی ہے۔
Following the launch of Operation Economic Outcast, @USTreasury imposed targeted financial measures against banks and aviation service providers. At my direction, teams were dispatched across the globe to engage with countries and demand action against the Iranian regime. These… — Treasury Secretary Scott Bessent (@SecScottBessent) September 26, 2026
Following the launch of Operation Economic Outcast, @USTreasury imposed targeted financial measures against banks and aviation service providers. At my direction, teams were dispatched across the globe to engage with countries and demand action against the Iranian regime. These…
امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت ایرانی فضائی شعبے اور مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف متعدد پابندیاں عائد کرچکا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ایران کی ان مالی اور تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے جنہیں واشنگٹن ایرانی حکومت کی معاونت سے جوڑتا ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف اقدامات کے سلسلے میں 50 سے زائد ممالک سے بات چیت کی ہے۔ تاہم ایران کی کچھ چھوٹی ایئرلائنز اب بھی بعض بین الاقوامی روٹس پر پروازیں چلا رہی ہیں، خصوصاً چین کے لیے، جہاں بیجنگ امریکی دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ فضائی روابط جاری رکھے ہوئے ہے۔
