• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 2:46 شام
  • پاکستان

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

جاپانی شخص کئی سالوں تک غیرآباد مکان کا کرایہ کیوں دیتا رہا؟؟

اسلام آباد: ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان کردیا، جس کے بعد یکم اکتوبر سے ملک میں لیٹ فائلر کی کیٹگری ختم ہوکر نان فائلر رہ جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے یکم اکتوبر سے ملک گیر سطح پر "لیٹ فائلر” کی کیٹگری کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے والوں پر بھی بلاواسطہ "نان فائلر” کی سخت شقیں لاگو ہوں گی۔

ایف بی آر نے تمام شہریوں، تاجروں اور کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نان فائلر کی پابندیوں اور کارروائی سے بچنے کے لیے 30 ستمبر تک لازمی اپنے ریٹرنز جمع کرائیں۔

تاجر برادری کے لیے بھی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانے کا یہ آخری موقع ہے۔

یاد رہے گذشتہ روز ایف پی سی سی آئی نے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی ڈیڈ لائن میں ایک ماہ توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اور ایف بی آر انکم ٹیکس ریٹرن کی تاریخ 31 اکتوبر 2026ء مقرر کریں۔

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ ریٹرن کی تاریخ میں توسیع سے ٹیکس نیٹ کو وسعت اور تاجروں کو سہولت ملے گی۔

انھوں نے بتایا تھا کہ ایف بی آر کا IRIS پورٹل شدید ٹریفک کے باعث بار بار سست روی اور کریش کا شکار ہو رہا ہے، سسٹم کی ناکامی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی کمزوری کی سزا ٹیکس دہندگان کو نہ دی جائے۔

عاطف اکرام شیخ نے کہا تھا کہ کاروباری برادری قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے پرعزم ہے ، ٹیکس قوانین اور رپورٹنگ کے تقاضوں میں ترامیم سے تاجروں کو ابہام کا سامنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی اور معاشی مشکلات سے چھوٹے و درمیانے درجے کے تاجر متاثر ہو رہے ہیں، توسیع نہ دی گئی تو کئی کاروباری ادارے نان فائلر بن جائیں گے اور جرمانے عائد ہوں گے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم، وزیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر فوری طور پر زمینی حقائق کا نوٹس لیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے