ایران بعض محصولات کے معاملے میں لچک کا عندیہ دے رہا ہے، رائٹرز
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکراتی عمل میں تعطل دور کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں ڈیڈلاک اب بھی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے وفود جنگ سے مرحلہ وار نکلنے کے ممکنہ فارمولے پر غور کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ کئی ماہ سے جاری جنگ کے بعد واشنگٹن اور تہران کسی مرحلہ وار معاہدے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، جس کے ذریعے تنازع کو بتدریج ختم کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ سمجھوتے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہوسکتا ہے جبکہ اس کے بدلے امریکا کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں اور ناکہ بندی میں نرمی یا خاتمے کی تجویز زیر غور ہے۔
خلیج کو بحیرہ احمر اور ہرمز کو باب المندب سے جوڑکر جنگ کا پانسہ بدل دیں گے؛ ایران
رائٹرز کے مطابق ایران بعض محصولات کے معاملے میں لچک کا عندیہ دے رہا ہے تاہم آبنائے ہرمز کے حوالے سے تہران کے مؤقف میں تاحال نمایاں تبدیلی سامنے نہیں آئی۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے مرحلہ وار معاہدے کو موجودہ تعطل ختم کرنے کا سب سے قابلِ عمل راستہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریق مرحلہ وار اقدامات کے ذریعے اختلافات کم کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکا کے سابق مذاکرات کار ڈینس راس نے رائے دی ہے کہ امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات تقریباً 30 فیصد ہیں۔
