عالمی رہنماؤں نے غزہ کی صورتحال، فلسطینیوں کے حقوق اور اسرائیل کی پالیسیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم، ترک صدر رجب طیب اردوان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے غزہ کی صورتحال، فلسطینیوں کے حقوق اور اسرائیل کی پالیسیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ عالمی برادری نے کئی دہائیوں سے فلسطین اسرائیل تنازع حل کرنے کے بجائے اسے صرف منیج کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان کے بقول غزہ کی تباہی اور مغربی کنارے میں زمینوں کا عملاً الحاق فلسطینی وجود مٹانے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنانے کی کوشش ہے۔
اردن کے شاہ نے اسرائیل کے احتساب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر خاموشی نے اسرائیل کو بے لگام ہونے کا احساس دیا ہے۔
ترک صدر اردوان نے بھی غزہ کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر فلسطینیوں کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔
انھوں نے غزہ کو بچوں کے لیے دنیا کا سب سے بڑا قبرستان قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت اور زیادہ سے زیادہ ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
قطر کے امیر شیخ تمیم نے بھی خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اسرائیل شام میں حملے جاری رکھتے ہوئے مزید شامی علاقے اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے خلیج کی موجودہ صورتحال کو خطے کے خطرناک ترین ادوار میں سے ایک قرار دیا اور غزہ میں اسرائیل کے جاری مظالم پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانسیسی صدر میکرون نے بھی غزہ کی صورتحال پر عالمی برادری کی توجہ دلاتے ہوئے فلسطینی مسئلے کے سیاسی حل اور دو ریاستی حل کی ضرورت پر زور دیا۔
