• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 3:59 شام
  • پاکستان

بھارتی حکومت کی 2020 کی خلائی پالیسی کے بعد ملک میں نجی خلائی کمپنیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے

نئی دہلی: بھارت کے سرکاری خلائی ادارے اسرو کے مستقبل اور نجی شعبے کے بڑھتے کردار پر ادارے کے سائنسدانوں اور ملازمین میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ ملازمین کی نمائندہ تنظیموں نے ادارے کے سربراہ سے نجی کمپنیوں کو راکٹ سازی، ٹیکنالوجی اور لانچنگ سے متعلق کام منتقل کیے جانے کی پالیسی پر وضاحت طلب کی ہے۔

بی بی سی کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران اسرو کے بنگلور اور تروندرم کے راکٹ سازی اور لانچنگ مراکز سے 100 سے زائد سائنسدان نجی خلائی کمپنیوں میں شامل ہوچکے ہیں، جس کے باعث ادارے کے اندر مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

بھارت میں خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کی شمولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ حیدرآباد کی کمپنی اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے رواں سال اپنے راکٹ کے ذریعے سیٹلائٹ خلا میں پہنچایا، جسے بھارتی خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کے بڑھتے کردار کی اہم مثال قرار دیا جارہا ہے۔

خلائی شعبے کے ضابطہ ساز ادارے اِن اسپیس کے سربراہ پون کمار گوئنکا نے وضاحت کی ہے کہ اسرو کی اہمیت کم نہیں کی جارہی۔ ان کے مطابق نجی کمپنیاں تجارتی راکٹ، سیٹلائٹس اور دیگر ٹیکنالوجی تیار کریں گی، جبکہ اسرو تحقیق، سائنسی مشنز، نئی ٹیکنالوجی، اسٹریٹیجک منصوبوں اور پیچیدہ خلائی بنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز رکھے گا۔

اسرو کے ملازمین نے تاہم سوال اٹھایا ہے کہ اگر تجارتی لانچنگ، بعض ٹیکنالوجیز اور دیگر سرگرمیاں نجی شعبے کو منتقل کردی گئیں تو مستقبل میں سرکاری خلائی ادارے کا عملی کردار کیا ہوگا۔

اسرو کے سربراہ وی نارائنن نے ملازمین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ادارے کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق اسرو بھارت کے مستقبل کے بڑے خلائی منصوبوں، جن میں خلائی اسٹیشن، چاند پر انسانی مشن اور نئی خلائی ٹیکنالوجی شامل ہیں، میں مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔

بھارتی حکومت کی 2020 کی خلائی پالیسی کے بعد ملک میں نجی خلائی کمپنیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد نجی سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے کر بھارت کے عالمی خلائی مارکیٹ میں حصے کو بڑھانا ہے۔

ماہرین کے مطابق نجی شعبے کی شمولیت سے بھارت کی خلائی صنعت میں سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع بڑھ سکتے ہیں، تاہم تجربہ کار سائنسدانوں کا اسرو چھوڑ کر نجی کمپنیوں میں جانا ادارے کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے۔

یوں اسرو کو ایک طرف اپنی سائنسی اور قومی خلائی ذمہ داریاں برقرار رکھنا ہیں اور دوسری جانب نجی شعبے کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کردار کے ساتھ نئے خلائی ماحول میں اپنی پوزیشن بھی برقرار رکھنی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے