• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 12:05 صبح
  • پاکستان

اسرائیلی فوجی نے زخمی اور بے بس فلسطینی عبدالفتاح الشریف کو اس وقت گولی ماری تھی جب وہ زمین پر بے حرکت پڑا تھا

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے 2016 میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ایک زخمی اور بے بس فلسطینی حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے سابق اسرائیلی فوجی ایلور عزاریہ کو صدارتی معافی دے دی۔

صدر اسحاق ہرزوگ کے دفتر کے مطابق سابق فوجی عزاریہ کی جانب سے باقی ماندہ مجرمانہ ریکارڈ ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جسے صدر نے 19 ستمبر کو منظور کرلیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ واقعے کو گزرنے والا وقت، موجودہ حالات اور عزاریہ کی جانب سے ظاہر کیا گیا افسوس ان عوامل میں شامل تھے جن کی بنیاد پر اسے نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

صدارتی دفتر کے مطابق معافی کا مقصد سابق فوجی کو اپنے ماضی سے آگے بڑھنے اور زندگی کا نیا باب شروع کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے سابق فوجی ایلور عزاریہ کو معافی دینے کے بعد اس کا مجرمانہ ریکارڈ بھی باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق 24 ستمبر کو وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ضروری دستاویز پر دستخط کیے، جس کے بعد عزاریہ کے ریکارڈ کے خاتمے کا صدارتی فیصلہ مکمل طور پر نافذ ہوگیا۔

ایلور عزاریہ نے 24 مارچ 2016 کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں زخمی فلسطینی عبدالفتاح الشریف کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

اسرائیلی فوجی عدالت نے 2017 میں اسے قتلِ غیرعمد کے جرم میں 18 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں سزا میں کمی کی گئی اور وہ مئی 2018 میں تقریباً نو ماہ قید کاٹنے کے بعد رہا ہوگیا۔

اس فیصلے سے قبل اسرائیلی فوج کی اعلیٰ قیادت نے معافی کی مخالفت کی تھی۔ فوجی موقف کے مطابق عزاریہ نے اپنے اقدام کی مکمل ذمہ داری قبول کرنے اور مناسب پشیمانی ظاہر کرنے کے حوالے سے مطلوبہ مؤقف اختیار نہیں کیا تھا۔

یوں تقریباً ایک دہائی پرانے اس مقدمے میں تازہ ترین پیش رفت اب سزا نہیں بلکہ عزاریہ کے مجرمانہ ریکارڈ کا باضابطہ خاتمہ ہے۔

یہ واقعہ 2016 میں منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو کے بعد عالمی سطح پر بھی زیر بحث آیا تھا، جس میں اسرائیلی فوجی عزاریہ کو زمین پر پڑے فلسطینی حملہ آور کو گولی مارتے دیکھا گیا تھا۔

ایلور عزاریہ نے عبدالفتاح الشریف کو اس وقت گولی ماری تھی جب دیگر فوجیوں کی فائرنگ کے بعد وہ زمین پر بے حرکت پڑا تھا۔ واقعے پر اسرائیل میں بھی شدید بحث ہوئی اور عزاریہ کو غیر ارادی قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے