• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 1:07 شام
  • پاکستان

امن و امان خراب ہو اور صوبائی انتظامیہ تعاون نہ کرے تو گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر ہو جاتا ہے، مشیر وزیراعظم

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ احتجاج کرنا ہے تو پشاور، کراچی یا لاہور میں کریں، اسلام آباد میں نہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ عسکری اور سیاسی قیادت نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا ہے کہ احتجاجی دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد کی حدود سے باہر منعقد ہونے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو اگر مطالبات کے لیے احتجاج کرنا ہی ہے تو وہ پشاور، مردان، کراچی یا لاہور کا رخ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتدرہ کا مذاکرات سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے، تاہم صدر اور وزیراعظم کی جانب سے بات چیت کے لیے کیے گئے اقدامات میں انہیں اعتماد میں لیا گیا ہوگا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی اجلاس میں شرکت نہیں کرتے، اگر انہیں کوئی تحفظات ہیں تو وفاق سے براہِ راست رابطہ کریں۔ رانا ثناء اللہ نے زور دیا کہ اپوزیشن کو لانگ مارچ کے بجائے مذاکرات کی میز پر آنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کے اختیارات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو اور صوبائی انتظامیہ تعاون نہ کرے تو گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے آئینی اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ اقدام ناپسندیدہ ہے مگر حالات کے پیشِ نظر ایسا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سیاسی بحران کے حل کے لیے اسپیکر چیمبر میں حکومتی اور اپوزیشن وفود کے مابین ابتدائی بات چیت گزشتہ روز ہوئی تھی، جس میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے فریقین نے مذاکرات کا عمل آج جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے