• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 7:16 شام
  • پاکستان

عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ معاشی استحکام کے ساتھ صنعت و تجارت کے لیے سازگار کاروباری ماحول یقینی بنانا ضروری ہے

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ کاروباری لاگت اور توانائی نرخوں میں کمی کو معاشی پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے، جبکہ کاروباری لاگت کم کرنے کا ایجنڈا بھی ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے۔

عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ معاشی استحکام کے ساتھ صنعت و تجارت کے لیے سازگار کاروباری ماحول یقینی بنانا ضروری ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں معاشی استحکام کے ساتھ گروتھ اور نجی شعبے کی مسابقت کو بھی مرکزِ نگاہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی اور توانائی کی بلند لاگت نے صنعت کی مسابقت متاثر کی ہے، صنعتی شعبے کو مسابقتی بجلی اور گیس ٹیرف فراہم کرنا برآمدات بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں استحکام کے بغیر پیداواری لاگت اور برآمدی مسابقت میں بہتری مشکل ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ گردشی قرض میں کمی کے ساتھ توانائی کے شعبے میں ایسی اصلاحات کی جائیں جن کا بوجھ صنعت پر منتقل نہ ہو۔ برآمدات میں اضافے کے لیے بجلی، گیس، فنانسنگ اور لاجسٹکس کی لاگت کم کرنا ہوگی۔

عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے برآمدات بڑھانے اور درآمدی انحصار کم کرنے کی جامع حکمت عملی ضروری ہے۔ تجارتی خسارہ کم کرنے کا پائیدار راستہ برآمدی صنعت کی پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں اضافہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں کاروباری شعبے پر غیر ضروری لاگت بڑھانے کے بجائے پیداواری معیشت کو فروغ دیا جائے۔ معاشی اصلاحات کا مقصد صرف مالیاتی اہداف نہیں بلکہ پائیدار معاشی نمو اور روزگار میں اضافہ بھی ہونا چاہیے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایسی معاشی پالیسی تشکیل دے جو استحکام کے ساتھ نمو کو بھی یقینی بنائے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے