• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 1:45 شام
  • پاکستان

شیخ منصور بن زاید کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ سال پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد اعلیٰ سطح کا ایک اہم رابطہ ہے

سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے ریاض میں اہم ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق شیخ منصور بن زاید نے 29 ستمبر کو ریاض میں شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بھی شریک تھے۔ دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب کو یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے کئی ہفتوں سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں سعودی ٹینکرز، تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈے اور دیگر مقامات بھی متاثر ہوئے ہیں۔

شیخ منصور بن زاید کا سعودی عرب کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ سال پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد اعلیٰ سطح کا ایک اہم رابطہ ہے۔

رائٹرز کے مطابق ان کی آمد سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان کی دعوت پر ہوئی تھی اور انہوں نے سعودی وزیر دفاع سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون و رابطہ بڑھانے کے طریقوں پر بات ہوئی۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گزشتہ عرصے میں خصوصاً یمن کے معاملے پر اختلافات نمایاں ہوئے تھے۔ ریاض نے گزشتہ سال متحدہ عرب امارات پر جنوبی یمنی علیحدگی پسند گروپ کی حمایت کے ذریعے اپنی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا تھا، جبکہ ابوظبی نے یمن سے اپنی باقی ماندہ فورسز واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

HRH the Crown Prince, UAE Vice President Sheikh Mansour bin Zayed Discuss Bilateral Relations, Regional Developments.https://t.co/SCKBywHbzF#SPAGOV pic.twitter.com/CPxWXlOa1w — SPAENG (@Spa_Eng) September 29, 2026

HRH the Crown Prince, UAE Vice President Sheikh Mansour bin Zayed Discuss Bilateral Relations, Regional Developments.https://t.co/SCKBywHbzF#SPAGOV pic.twitter.com/CPxWXlOa1w

تاہم رواں سال جولائی میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے دوطرفہ دوستی اور اتحاد کے حوالے سے بیانات سامنے آئے تھے، جس کے بعد تعلقات میں بہتری کے اشارے ملے۔ تازہ ملاقات اسی پس منظر میں ہوئی ہے، تاہم دونوں حکومتوں نے کسی نئے باقاعدہ معاہدے یا مکمل مفاہمت کا اعلان نہیں کیا۔

ملاقات کا وقت بھی اہم ہے کیونکہ سعودی عرب حوثی حملوں کے باعث علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے فوجی حکام نے بھی ریاض میں علاقائی سلامتی اور سعودی دفاعی تعاون پر بات چیت کی تھی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے