• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 1:01 صبح
  • پاکستان

شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی

’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘

اے آئی کو چکما دینے والی شرٹ : حیرت انگیز ایجاد

جب ملازمہ کے سیب کھاتے ہی صدیوں پرانے نایاب ہیرے کی چوری پکڑی گئی

کراچی: سرجانی ٹاؤن میں ماں اور 3 بچوں کے قتل میں ملوث ملزم ہلاک ہو گیا۔

ملزم کو ساتھیوں اور آلہ قتل کی نشاندہی پر پولیس ساتھ لے کر پہنچی تھی کہ نامعلوم افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ملزم ہلاک ہو گیا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے دوران ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا جب کہ ملزم کے ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔

سرجانی ٹاؤن میں خاتون اور تین بچوں کو مقتولہ کے شوہر کے بہنوئی ہمایوں نے قتل کیا، اعتراف جرم کے ساتھ ملزم نے دل دہلادینے والے انکشافات بھی کیے۔

ملزم ہمایوں نے کس بے دردی سے چاروں کو قتل کیا، چار گھنٹے تک گھر میں کیا کرتا رہا، آلہ قتل کہاں چھپایا اور قتل کے بعد وہاں سے کیسے فرار ہوا، اس حوالے سے ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے ملزم سے تفتیش کے بعد سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے بتایا کہ ملزم وقوعہ کے روز دوپہر 2 بجے گھر میں داخل ہوا اور شام 6 بجے اس گھر سے فرار ہوا، ان چار گھنٹوں کے دوران ملزم نے سفاکی کی انتہا کرتے ہوئے چاروں کو قتل کیا اور شواہد مٹانے کی کوشش کی۔

ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے بتایا کہ ہمایوں چنگچی میں دانش کے گھر کے قریب اترا اور پھر وہاں سے پیدل اسکے گھر آیا، ملزم نے دانش کے گھر آنے سے پہلے اپنے موبائل فون بند کر دیے تھے۔

ڈی آئی جی ویسٹ نے بتایا کہ ہمایوں مقتولہ پر بری نظر رکھتا تھا، اور قتل سے قبل زیادتی کی کوشش بھی کی، جب قریب موجود 18 ماہ کی بچی رونے لگی تو اس کو اٹھا کر دیوار پر دے مارا۔

عرفان بلوچ نے یہ بھی بتایا کہ سہ پہر 3 بجے کے قریب مدرسے گئے دونوں بچے واپس آئے تو ہمایوں جو ان کا رشتے میں پھوپھا لگتا ہے، نے ہی دروازہ کھولا اور جب وہ گھر کے اندر آ گئے تو ملزم نے انہیں بھی قتل کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ چاروں کو قتل کرنے کے لیے ملزم نے سریے سے ان پر وار کیے۔ قتل کے بعد ہمایوں نے آلہ قتل سریے اور خود کو گھر کے واش روم میں ہی واش کیا اور پوری طرح سے تیار ہو کر 6 بجے کے قریب گھر سے فرار ہوا۔

ڈی آئی جی ویسٹ نے بتایا کہ قتل کے بعد ہمایوں نے کرائم سین کو ایسے صاف کیا کہ وہاں سے کوئی شواہد نہیں ملے۔ ملزم نے ایسی پلاننگ کی تھی کہ جس سے یہ واقعہ چوری کی واردات لگے۔

عرفان بلوچ نے بتایا کہ ملزم ہمایوں نیو کراچی کا رہائشی ہے، وہ سرجانی ٹاؤن سے نکل کر جب اپنے گھر گیا تو آلہ قتل سریے کو راستے میں نالے میں پھینک دیا تھا اور جب وہ اپنے گھر پہنچتا ہے تو وہاں اس کی بیوی اس واقعے کا بتاتے ہوئے کہتی ہے کہ بھابی اور تین بچوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔

کراچی پولیس نے تین روز قبل گھر میں ماں اور تین بچوں کے قتل کا معمہ تین روز میں ہی حل کر لیا۔ قاتل کوئی اور نہیں بلکہ قریبی رشتے دار نکلا، جس نے گرفتاری کے بعد دوران تفتیش قتل کا اعتراف بھی کر لیا۔

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سرجانی ٹاؤن میں ماں اور 3 معصوم بچوں کے قتل کا معمہ حل ہو گیا ہے۔ قاتل مقتولہ کے شوہر کو بہنوئی ہمایوں نکلا، جس کو گرفتار کر کے پولیس نے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا ہے اور دوران تفتیش اس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

ڈی آئی جی ویسٹ نے بتایا کہ ملزم ہمایوں ڈیڑھ سال پہلے اسی گھر میں کرایہ دار کے طور پر رہ رہا تھا اور وقوعہ کے دن دوپہر ڈھائی بجے کے قریب یہ مقتولین کے گھر آیا۔

عرفان بلوچ کا کہنا تھا کہ ملزم ہمایوں کو پتہ تھا کہ خاتون کا شوہر اس وقت گھر میں نہیں ہوگا۔ وہ مقتولہ پر بُری نظر رکھتا تھا اور قتل سے قبل زیادتی کی کوشش بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ ملزم نے 18 ماہ کی بچی اور دونوں بڑے بچوں کو بھی قتل کیا اور واقعے کو واردات کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ تاہم ہم (پولیس) نے جیسے ہی جائے وقوعہ کا دورہ کیا تو پتہ لگ گیا کہ یہ واردات نہیں ہے۔ ایک پڑوسی خاتون نے بتایا کہ جب ہمایوں اپنے سالے دانش کے گھر آیا تو وہ مہوش کے گھر میں ہی تھی۔

ڈی آئی جی ویسٹ نے بتایا کہ ہم موبائل فون کی بھی انکوائری کر رہے ہیں، گھر سے غائب ہونے والے موبائل فون بھی وہاں موجود لوگوں میں سے کسی نے اٹھائے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ پیر کی رات سرجانی ٹاؤن سیکٹر7 ڈی میں گھر کے اندر سے ماں اور 3 بچوں کی لاشیں ملی تھیں۔ تمام افراد کے سر پر تیز دھار آلے اور کسی وزنی چیز سے وار کیے گئے تھے۔ مقتولہ مہوش کا موبائل فون گھر سے تاحال غائب ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے