• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 2:57 شام
  • پاکستان

اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا

دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی

شہزادہ ہیری نے وعدہ پورا کرنے کے لیے کینیڈا میں طیارے سے چھلانگ لگادی

شوہر کے دوسری لڑکی کیساتھ ڈانس کرنے پر ناراض بیوی نے انتہائی قدم اٹھا لیا

اسلام آباد: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان پر عالمی سفری پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پابندیوں میں تین ماہ کی توسیع کر دی۔

پابندیوں کی سفارش ڈبلیو ایچ او ایمرجنسی کمیٹی برائے پولیو نے کی، صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے پاکستان میں پولیو کی صورت حال اور حکومتی اقدامات پر غور کیا، پاکستان اور افغانستان میں وائلڈ پولیو وائرس کا پھیلاؤ تاحال قابل تشویش ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ پولیو وائرس کا پھیلاؤ عالمی صحت عامہ کے لیے بدستور خطرہ ہے، جب کہ پاکستان اور افغانستان پولیو کے حوالے سے ایک دوسرے کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق رواں سال دنیا بھر سے 16 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جب کہ رواں سال پاکستان میں 57 سیوریج سیمپلز پولیو پازیٹو نکلے ہیں، اور پاک افغان سرحدی آمد و رفت سے پولیو وائرس کی منتقلی جاری ہے۔

کراچی میں منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آ گیا

ڈبلیو ایچ او کے اعلامیے کے مطابق پاک، افغان پولیو وائرس منتقلی جنوبی کے پی اور کوئٹہ بلاک سے ہو رہی ہے، جنوبی خیبرپختونخوا اور کراچی میں پولیو وائرس کا مقامی پھیلاؤ جاری ہے، کراچی پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا مرکزی گڑھ بن چکا ہے۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ وسطی پاکستان بلاک، جنوبی کے پی، کوئٹہ بلاک میں پولیو مہم چلانے کی ضرورت ہے، اور ادارے کو پاکستان میں پولیو ویکسین سے محروم بچوں کے حوالے سے تشویش ہے، ویکسین سے انکار انسداد پولیو کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، اور سیکیورٹی مسائل پر کے پی میں ڈھائی لاکھ بچے پولیو ویکسین سے محروم ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے