• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 12:36 صبح
  • پاکستان

ستمبر کے 4 دنوں میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات یومیہ 1 کروڑ 95 لاکھ سے 2 کروڑ 25 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں

خلیج سے خام تیل کی برآمدات ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوسکی اور برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جہازوں کی نقل اور حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی نے بتایا کہ ستمبر کے آخری ہفتے کے چار دنوں میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات یومیہ 1 کروڑ 95 لاکھ سے 2 کروڑ 25 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں۔

یکم اکتوبر کو ختم ہونے والے سات روزہ عرصے کی اوسط برآمدات یومیہ ایک کروڑ 85 لاکھ بیرل رہیں جو جنگ سے پہلے کی تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ بیرل یومیہ اوسط سے معمولی زیادہ ہے۔

تاہم خلیجی ممالک کی تیل برآمدات ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر آنے کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر اس شدت سے نہیں پڑا جس کی توقع کی جارہی تھی۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسئلہ صرف تیل نکالنے اور ترسیل کا نہیں ہے بلکہ اسے محفوظ اور کم لاگت میں عالمی منڈیوں تک پہنچانے بھی شامل ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث تیل کی ترسیل کے راستوں، جہازوں کی نقل و حرکت اور انشورنس سمیت کئی معاملات میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔

اس صورتحال میں تیل کی پیداوار اور برآمدات بحال ہونے کے باوجود خریداروں تک رسائی کا عمل پہلے کی نسبت زیادہ مہنگا اور پیچیدہ ہوگیا۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی عالمی منڈی کے لیے اہم ہے کیونکہ خلیجی ممالک سے برآمد ہونے والے تیل کا بڑا حصہ اسی اہم سمندری راستے سے گزرتا ہے۔

کسی بھی وقت نقل اور حمل میں رکاوٹ یا خطرے کے خدشے سے تیل کی قیمت میں اضافے کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں عالمی منڈی میں قیمتوں کو صرف اس تناظر میں دیکھنا کافی نہیں ہوگا کہ خلیج سے کتنا تیل نکل رہا ہے بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ وہ کتنی محفوظ، قابل اعتماد اور کم لاگت ترسیل کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچ رہا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے