افسر کے تبادلے پر الاؤنس بند ہوجائے گا، الاؤنس کی ادائیگی وفاقی حکومت کرے گی اور اس پر انکم ٹیکس بھی لاگو ہوگا
پختونخوا کے 26 اضلاع ’ہارڈ ایریا‘ قرار دیتے ہوئے افسران کے لیے 250 فیصد سیکیورٹی الاؤنس منظور کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے حوالے سے ہارڈ ایریا قرار دینے کے معاملے میں وفاقی حکومت نے صوبے کے 6 ریجنز کے 26 اضلاع کو ہارڈ ایریا قرار دے دیا ہے۔
چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کی جانب سے خط موصول ہوگیا، جس میں دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع میں انتظامی و پولیس وفاقی افسران کے لیے سیکیورٹی رسک الاؤنس کی منظوری دی گئی ہے۔
خط کے مطابق سیکیورٹی رسک الاؤنس افسر کی بنیادی تنخواہ کا 250 فیصد ہوگا، جبکہ افسر کے تبادلے پر الاؤنس فوری طور پر بند ہوجائے گا۔ الاؤنس کی ادائیگی وفاقی حکومت کرے گی اور اس پر انکم ٹیکس بھی لاگو ہوگا۔
خط کے مطابق سیکیورٹی رسک الاؤنس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، تاہم معطلی، او ایس ڈی، جوائننگ ٹائم اور ٹریننگ کے دوران سیکیورٹی رسک الاؤنس نہیں ملے گا۔ مزید یہ کہ سیکیورٹی رسک الاؤنس پنشن اور گریجویٹی کے طور پر بھی شمار نہیں ہوگا۔
ان متاثرہ اضلاع میں پشاور، خیبر، مردان، چارسدہ، مہمند اور نوشہرہ شامل ہیں۔ خط کے مطابق کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان بھی متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر بھی فہرست کا حصہ ہیں۔
اسی طرح سوات، بونیر، شانگلہ، باجوڑ، دیر اپر، دیر لوئر، چترال اپر اور چترال لوئر بھی متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں، تاہم ضلع صوابی اور ہزارہ ڈویژن کے افسران کو سیکیورٹی رسک الاؤنس نہیں ملے گا۔
