• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 11:42 صبح
  • پاکستان

سادہ الفاظ میں پاپولسٹ قیادت کی تعریف یہ ہے کہ وہ قیادت جو دل خوش کن نعروں کو اپناتی اور نتائج سے بے پروا ہوکر اپنی قوم کو سبز باغ دکھاتی ہے۔ اس قسم کی قیادت ہر وہ نعرہ اپناتی ہے جس سے قوم خوش ہو جائے۔ وہ ایسی جذباتی فضا پیدا کرتی ہے کہ اسکے چاہنے والے اسکی خاطر مر مٹنے کو تیار ہوتے ہیں۔

جذبات کی رو میں بہہ کر یہ فالورز بھی ٹھنڈے دل سے سوچتے ہیں اور نہ معاملات پر غور و فکر کرتے ہیں۔ پاپولسٹ لیڈر کے فالورز کو اپنے لیڈر کی کوئی غلطی نظر نہیں آتی جبکہ اسکے مخالفین سے کسی خیر کی توقع نہیں کرتے۔ غور سے دیکھا جائے تو اس وقت دنیا میں چار سو فساد اس پاپولسٹ لیڈر شپ کی وجہ سے برپا ہے اور اسکی سب سے نمایاں مثال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں کے اندر قوم پرستانہ جذبات کو ابھار کر یہ نعرہ لگایا کہ وہ امریکہ کو عظیم بنائینگے۔

انہوں نے سابق صدور اور اپنے مخالفین کو خوب لتاڑا۔ ایسے نعرے لگائے جو شاید قابل عمل نہیں تھے لیکن نہایت پرکشش ضرور تھے۔ چنانچہ امریکیوں کی ایک بڑی تعداد انکی گرویدہ ہو گئی۔ انہوں نے انکے مسخرے پن اور ماضی کو بھی نظرانداز کر دیا اور ان پر ووٹوں کی بارش کردی چنانچہ وہ امریکہ جیسے عظیم ملک کے صدر بن گئے۔ صدر بننے کے بعد بھی وہ باز نہیں آئے اور قوم کے سامنے اپنے آپکو غیرروایتی اور عوامی صدر ثابت کرتے رہے۔ مثلاً امریکی صدر اس سے پہلے موبائل فون نہیں رکھتا تھا لیکن وہ بیشتر اوقات صحافیوں کو موبائل فون پر دستیاب رہتے ہیں۔

امریکی صدور اس سے قبل مخصوص اوقات میں بہت کم پریس کانفرنس کرکے اپنا مافی الضمیر بیان کرتے تھے لیکن وہ ہمہ وقت نہ صرف میڈیا کیساتھ غیرروایتی انداز میں گفتگو کرتے ہیں بلکہ ٹویٹر کا بھی حد سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ آج بھی امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے چاہنے والے لاکھوں میں ہیں لیکن انہوں نے امریکہ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ، آئیے ذرا اس کا ایک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔ ٹرمپ سے قبل امریکی صدور کی باتوں کو تو کیا ایک ایک اشارے کو دنیا بھر میں تولا جاتا تھا اور اسکے پیش نظر دنیا کے ممالک اپنی پالیسیاں بناتے تھے لیکن آج امریکی صدر کے بیانات کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا ۔ کیونکہ وہ صبح کچھ کہتے ہیں اور شام کو کچھ۔ ایک روز کسی ملک کے سربراہ کی توہین کرتے ہیں تو دوسرے روز انہیں عظیم دوست قرار دیتے ہیں چنانچہ آج امریکہ جیسے ملک کے صدر کے دعووں اور وعدوں کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا ۔انہوں نے امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن انکے دور میں امریکہ کے انسانی آزادیوں کے وصف کو شدید نقصان پہنچا۔ پناہ گزینوں کا جینا حرام ہوا۔

آئس جیسے ادارے قائم ہوئے اور بہت سارے لوگوں کیلئے جنت تصور کئے جانے والا امریکہ جہنم کا منظر پیش کرنے لگا۔ان سے قبل امریکہ میڈیا کی آزادی کیلئے مشہور تھا لیکن انہوں نے آتے ہی بیک جنبش قلم وائس آف امریکہ کے ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کیا۔ وہ صرف ان اخبارات اور چینلز کو گوارا کرتے ہیں جو انکی تعریفیں کیا کرتے ہیں جبکہ ناقد میڈیا کا وہ ناطقہ بند کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ نوبت یہاں تک آئی کہ انہوں نے وائٹ ہائوس کے اندر ناقد میڈیا کے رپورٹرز کا داخلہ بند کردیا جسے عدالت نے بحال کر دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے امریکی سیاست میں اقربا پروری اور دوست پروری عام نہیں تھی لیکن انہوں نے یہ دونوں چیزیں عام کرادیں ۔ ایک طرف انکے داماد جیریڈ کروشنر ہیں جن کے پاس کوئی سرکاری عہدہ بھی نہیں لیکن ایران اور یوکرائن جیسے ایشوز وہ حل کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف انکے کاروباری دوست اسٹیووٹکوف ہیں جن کا ان معاملات میں کردار سیکرٹری خارجہ سے زیادہ ہے۔ میڈیا الزام لگا رہا ہے کہ امریکی صدر نے ایران جنگ کو بھی اسٹاک ایکسچینج کے اتارچڑھائو اور مال کمانے کیلئے استعمال کیا لیکن انہیں کوئی پروا ہی نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد نیٹو کو اہمیت دینا چھوڑ دی ۔ یوکرائن کے جنگ میں بھی امریکہ کے کردار کو کم کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کی یہ سپرپاور بھی تنہا ہونے لگی اور ایران جنگ میں کسی یورپی ملک نے اسکا ساتھ نہیں دیا بلکہ کچھ ممالک نے تو مذمت بھی کی ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی چین کو لگام ڈال دینگے لیکن انکے دور میں چین پہلے سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنے لگا۔ اس دوران چین نے عرب دنیا ، افریقہ اور یورپ میں بھی اپنے دوست پیدا کرلئے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے دوستوں میں کمی کردی ۔آج نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ چین کے صدر کا ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک میں اس طرح استقبال کیا کہ جس طرح ایک محکوم ملک حاکم کا کرتا ہے۔ چینی صدر نے مغرور صدر ٹرمپ کا غرور یوں خاک میں ملا دیا کہ چند ماہ قبل جب ڈونلڈ ٹرمپ چین گئے تھے تو صدراستقبال کیلئے ائرپورٹ آئے تھے اور نہ وزیر خارجہ لیکن چینی صدر کے استقبال کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ مع اہلیہ کے ائیرپورٹ پر موجود تھے ۔ ائرفورس کے جہازوں کی سلامی کے علاوہ توپوں کی سلامی الگ سے دی گئی۔

اب خود سوچ لیجئے کہ امریکہ عظیم بن گیا یا چین؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے بڑی حماقت اسرائیل کے ورغلانے پر ایران جنگ چھیڑنے کی کی۔ اس جنگ نے انسانی حقوق اور آزادیوں کے علمبردار امریکہ کو جارح اور ظالم کے طور پر متعارف کرادیا جسکی وجہ سے اس کا امیج تباہ ہوگیا۔ دوسری طرف اس نے بھرپور بمباریوں کے باوجود ایران کو جھکنے پر مجبور نہیں کیا جسکی وجہ سے امریکہ کے سپرپاور ہونے کی حیثیت بری طرح مجروح ہوئی۔ سب سے زیادہ نقصان اس کے عرب اتحادیوں کو پہنچا ۔ امریکہ اب نہ نکل سکتا ہے اور نہ مزید علاقے میں ٹھہر سکتا ہے ۔ اس کے غلط اقدام کی وجہ سے ایران کا رویہ بڑا جارحانہ بن گیا اور اگر ایران امریکہ جنگ ختم ہوتی بھی ہے تو عرب ممالک کو بے تحاشہ مسائل کا سامنا کرنا پڑیگا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سیکورٹی کیلئے متبادل راستے تلاش کررہے ہیں ۔

ایران جنگ کی ڈونلڈ ٹرمپ کی غلطی کا سب سے برا نتیجہ تو یہ سامنے آیا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ ایشیائی اور یورپی ممالک کی معیشت تو متاثر ہوہی گئی لیکن خود امریکی معیشت بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی ۔ چنانچہ جو امریکی توقع کررہے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان کیلئے امریکہ کو جنت بنادیں گے ، الٹا معیشت کی خرابی کی وجہ سے انکا جینا دشوار ہوگیا۔

جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تحریک انصاف آر یا پار!

حیرتوں والی زمین چین کا سفر

رضوان پر بھینس چوری کا ہی الزام لگا دیتے!!

مسلم لیگ (ن) کی ’’تنہا پرواز‘‘

جماعت اسلامی کی آسان سیاست

مکہ کی طرف بڑھتا ڈرون!

مریم نواز کا بیان اور زمینی حقائق

پاکستان کرکٹ: نظام کٹہرے میں

ننگشیا ریجن کا میڈیا کلاؤڈ پلیٹ فارم

صوبے یا انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت

صوبے نہیں بن رہے!!

نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس

تازہ ترین

• 3 منٹ پہلے لاہور: گھریلو ناچاقی پر شوہر اور سسرالیوں نے مبینہ طور پر خاتون کو زہر دیکر قتل کردیا

لاہور: گھریلو ناچاقی پر شوہر اور سسرالیوں نے مبینہ طور پر خاتون کو زہر دیکر قتل کردیا

• 10 منٹ پہلے پاپولسٹ قیادت

• 14 منٹ پہلے ٹرمپ نے اے آئی ایگزیکٹوز کے ساتھ طے پانے والی دستاویز جاری کردی

ٹرمپ نے اے آئی ایگزیکٹوز کے ساتھ طے پانے والی دستاویز جاری کردی

• 18 منٹ پہلے آئی ایم ایف کا پاکستان سے مالیاتی استحکام لانے اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کم کرنے کا مطالبہ

آئی ایم ایف کا پاکستان سے مالیاتی استحکام لانے اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کم کرنے کا مطالبہ

• 2 گھنٹے پہلے میر علی میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی، 3 خارجی دہشتگرد ہلاک

میر علی میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی، 3 خارجی دہشتگرد ہلاک

• 3 گھنٹے پہلے امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو امیگرینٹس کی تیسرے ملک بے دخلی کی اجازت دے دی

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو امیگرینٹس کی تیسرے ملک بے دخلی کی اجازت دے دی

• 4 گھنٹے پہلے اسنوکر کے سابق عالمی چیمپئن گریم ڈوٹ کو 2 بچوں سے جنسی زیادتی کے جر م میں 7 سال قید کی سزا

اسنوکر کے سابق عالمی چیمپئن گریم ڈوٹ کو 2 بچوں سے جنسی زیادتی کے جر م میں 7 سال قید کی سزا

• 5 گھنٹے پہلے ایران نے اپنی شرائط امریکا کے حوالے کردی ہیں مگر ٹرمپ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں: سربراہ ایرانی قومی سلامتی کونسل

ایران نے اپنی شرائط امریکا کے حوالے کردی ہیں مگر ٹرمپ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں: سربراہ ایرانی قومی سلامتی کونسل

ماخذ: Geo News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے