• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 3:18 شام
  • پاکستان

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

کراچی: دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کی کارکردگی اور درجہ بندی کی رپورٹس جاری کرنے والے برطانوی ادارے ’ٹائمز ہائر ایجوکیشن‘ نے ’ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2027‘ جاری کر دی۔

جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 56 جامعات ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی عالمی رینکنگ میں شامل کی گئی ہیں، جس سے پاکستانی یونیورسٹیوں کی تعلیمی معیار کے سلسلے میں پیش رفت ظاہر ہوتی ہے۔

قائد اعظم یونیورسٹی پاکستان کی بہترین جامعات میں سرفہرست قرار دی گئی ہے، جب کہ عالمی رینکنگ 551 سے 600 کے بینڈ میں شامل کی گئی ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، این یو ایس ٹی 601 سے 650 کے بینڈ میں شامل ہے، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد 651 سے 700 کے عالمی رینکنگ بینڈ میں شامل کی گئی ہے۔

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، اور یونیورسٹی آف لاہور 701 سے 800 کے بینڈ میں شامل کی گئی ہے، متعدد پاکستانی جامعات 801 سے 1000 کے رینکنگ بینڈ میں شامل کی گئی ہیں۔

ایئر یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد اور پنجاب یونیورسٹی بھی 801 سے 1000 کے بینڈ میں شامل کی گئی ہے۔

لمز سمیت متعدد پاکستانی جامعات 1001 سے 1200 کے رینکنگ بینڈ میں شامل ہیں، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز 1601 سے 1800 کے عالمی رینکنگ بینڈ میں شامل ہے، جامعہ کراچی بھی 1601 سے 1800 کے عالمی رینکنگ بینڈ میں شامل کی گئی ہے، جب کہ این ای ڈی یونیورسٹی 1801 سے 2000 کے بینڈ میں شامل ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (نمز) 2001 اور اس سے اوپر کے رینکنگ بینڈ میں شامل کی گئی ہے۔

رینکنگز میں نمبر وَن یونیورسٹی

واضح رہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی مسلسل 11 ویں سال ریکارڈ طور پر پہلے نمبر پر ہے، چین کی سنگھوا یونیورسٹی 11 ویں نمبر پر آ گئی ہے اور سوئٹزرلینڈ کی ای ٹی ایچ زیورخ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پہلی بار ایشیا براعظم یورپ سے آگے نکل گیا ہے اور نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور پہلی بار سرفہرست 15 جامعات میں شامل ہو گئی ہے۔ پہلی بار سرفہرست 15 جامعات میں ایشیا کی 3 جامعات شامل ہیں۔

اگر اس رینکنگز کو بغور دیکھا جائے تو عالمی سطح پر اعلیٰ تعلیم کی بلند ترین سطح پر مغربی جامعات کی اجارہ داری اب بتدریج کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ روایتی طور پر دنیا کی طاقت ور سمجھی جانے والی جامعات اپنی مضبوط اور دیرینہ شہرت کے سہارے اس حقیقت کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان کی تحقیقی کارکردگی میں کمی آ رہی ہے۔

ٹائمز ہائر ایجوکیشن (THE) کی ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز 2027 سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال مختصر وقفے کے بعد ایشیائی جامعات ایک بار پھر درجہ بندی میں اوپر کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دنیا کی جامعات میں قائم طویل عرصے سے چلا آ رہا طاقت کا نظام شاید کسی حتمی تبدیلی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی اگرچہ مسلسل 11 ویں سال ریکارڈ طور پر پہلے نمبر پر ہے، لیکن اس نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کو انتہائی معمولی فرق سے پیچھے چھوڑا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو طویل عرصے سے اعلیٰ مقام پر قائم روایتی جامعات ایک اہم موڑ پر دکھائی دیتی ہیں۔

آکسفورڈ نے تحقیقی پیداوار، بین الاقوامی مشترکہ مصنفیت اور ڈاکٹریٹ کرنے والے طلبہ اور تدریسی عملے کے تناسب میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ تاہم ایم آئی ٹی نے طلبہ اور عملے کے بہتر تناسب، زیادہ حوالہ جاتی اثر اور تحقیقی قوت کے بہتر اسکور کا مظاہرہ کیا۔ مجموعی اسکور کی بات کی جائے تو دونوں جامعات کے درمیان فرق صرف 0.1 پوائنٹ کا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے