• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 1:25 صبح
  • پاکستان

لاہور میں ملک گیر اجتماع کارکنان سے خطاب، عوام اور کارکنوں کی محنت سے کامیاب ہوئے

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ جماعت اسلامی اپنی تحریک سے دستبردار نہیں ہوئی، وزیراعظم سے ملاقات میں مطالبات پر ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ شروع کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی و اپوزیشن جماعتیں عوامی مسائل پر بات نہیں کر سکتیں کیونکہ پٹرولیم، ریفائنریز، چینی اور دیگر مافیاز انہی جماعتوں میں موجود ہیں، چند نشستیں حاصل کرنے کی خواہش انقلاب برپا نہیں کرسکتی۔

لاہور میں ملک گیر اجتماع کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنی حکمت عملی میں کوئی انحراف نہیں کیا، بجلی، آئی پی پیز اور انسانیت کو دبانے والے مافیاز کو بے نقاب کیا جا رہا ہے۔ مافیاز اور ظلم کی تمام شکلوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں آئی پی پیز کے معاملے پر عوام میں آگاہی پیدا ہوئی اور حکومت نے مسلسل دباؤ کے بعد 57 آئی پی پیز سے بات کی۔ حافظ نعیم نے کہا کہ ملک میں 100 سے زائد آئی پی پیز ہیں اور تمام حکومتوں نے مل کر انہیں فائدے پہنچائے۔ حکومت کو آئی پی پیز سے بات کرنے سے 4500 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ حکومتی و اپوزیشن جماعتیں آئی پی پیز کے خلاف ایک حد سے آگے نہیں جاسکتیں، پٹرولیم مافیا، ریفائنریز اور چینی مافیا بھی ان جماعتوں میں موجود ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر چند ماہ قبل لوگ زیادہ آگاہ نہیں تھے، جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ جگا ٹیکس ہے۔ آج میڈیا پر روزانہ لیوی ختم کرنے کی بات ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد سے عوامی مسائل قومی سطح پر زیر بحث آئے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے لاہور، کراچی، حیدرآباد، کرک اور راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں دھرنے دیے، جلسے، ہڑتالیں اور لانگ مارچ کیے۔ دھرنے آسان نہیں تھے، عوام اور کارکنوں کی محنت سے کامیاب ہوئے۔ حکومت سے مذاکرات میں سود کی شرح کم کرنے کا مطالبہ کیا، پہلے مرحلے میں شرح سود میں 3 فیصد کمی سے 1700 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔

شہباز شریف کا حافظ نعیم سے رابطہ، مارچ مؤخر کرنے کی درخواست، امیر جماعت اسلامی نے انکار کردیا

حافظ نعیم الرحمٰن کا مریم نواز کے اثاثہ جات کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ مطالبات کے حق میں دستخطی مہم شروع کردی گئی ہے اور کم از کم دو کروڑ افراد کے دستخط حاصل کیے جائیں گے۔ احتجاجی کیمپ لگائے جائیں، ریلیاں اور جلسے کیے جائیں۔ خیبرپختونخوا میں ریلیاں جاری ہیں اور کارکن مکمل طور پر متحرک ہیں۔ کل لاہور میں بھرپور جلسہ عام ہوگا، خواتین بھی بڑی تعداد میں شرکت کریں گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، مخالفت سے پریشان ہونے کے بجائے مخالفین کو دلیل سے سمجھانا ہے۔ خواتین نے دھرنوں میں غیرمعمولی شرکت کی اور لانگ مارچ میں بھی ساتھ جانے کا مطالبہ کیا، تاہم اس حوالے سے بعد میں بتایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے اور قرآن و سنت کے مطابق جدوجہد کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کسی فقہ یا مسلک کی بنیاد پر قائم جماعت نہیں، ہر مسلک اور فرقے کی عزت کرتے ہیں۔ رائے عامہ ہموار کیے بغیر انقلاب نہیں لایا جاسکتا، عوام سے رابطہ بڑھانا اور مظلوموں کی آواز بننا ضروری ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی فلسطین، کشمیر، جمہوری آزادی اور فارم 47 سمیت عوامی مسائل پر بات کرتی ہے۔ 5 سے 7 ستمبر کے درمیان کیے گئے سروے کے مطابق 40 فیصد سے زائد لوگوں کو آگاہی ملی کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے معاملے پر بات کررہی ہے۔ کارکنوں کی محنت سے جماعت اسلامی مین اسٹریم کے طور پر سامنے آئی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جاگیردار اور سرمایہ دار تبدیلی نہیں لانا چاہتے، جبکہ جماعت اسلامی دینی فریضہ سمجھ کر جدوجہد کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کے تمام دفاتر کو عوامی دفتر بنایا جائے تاکہ عوام سے رابطہ مضبوط ہو۔ ہمارے بزرگ بھی ماضی میں دھرنوں اور ٹرین مارچ میں آگے آگے رہے ہیں، جماعت اسلامی میں نظریاتی پختگی موجود ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے