• ستمبر 16, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 2:18 شام
  • پاکستان

بھارت میں مذموم سیاسی عزائم کے لیے نفرت و تقسیم اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر مظالم بی جے پی کا پرانا ہتھکنڈا ہے

نام نہاد سیکولر بھارت کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں مسلم سرکاری افسران بھی ہندوتوا انتہاپسندوں کے نشانے پر آ گئے۔

ہندوتوا کے زیر اثر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اپنی انتہا پر پہنچ چکا ہے، اور اب سرکاری افسران کو بھی ہراسانی و تعصب زدہ سوچ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بھارتی جریدے مکتوب میڈیا کے مطابق اسلامی جملوں کے استعمال پر ہندوتوا انتہا پسندوں کی نفرت انگیز مہم کے بعد مسلم آئی پی ایس آفیسر بشریٰ بانو کا تبادلہ کر دیا گیا۔

مکتوب میڈیا کے مطابق ’السلام علیکم‘ اور ’جزاک اللہ‘ بولنے پر انتہا پسند ہندو گروہوں نے مسلم خاتون افسر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انتہاپسند تنظیم ہندو لیگل فنڈز نے ہوم سیکریٹری کو مسلم آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کیخلاف شکایت درج کرائی ہے۔۔

ہندوتوا سرگرمیوں پر ہندو پولیس افسرانوج چودھری کو ترقی اور مسلم افسر کا تبادلہ مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک کا عکاس ہے۔

بھارت میں مذموم سیاسی عزائم کے لیے نفرت و تقسیم اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر مظالم بی جے پی کا پرانا ہتھکنڈا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے