• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 7:02 شام
  • پاکستان

اسمارٹ گلاسز : خواتین کی خفیہ ویڈیوز کیخلاف اہم اقدام

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

کراچی: میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا انھوں نے مجھے پھنسایا۔

تفصیلات کے مطابق میر رضا قتل کیس میں پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔

ڈاکٹر اسامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر سمیعہ نے مجھے اس کیس میں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہیں، میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ ڈاکٹر سمیعہ نے مجھے پھنسایا، اور خود ہی مجھ سے کہا تھا کہ میں نے آپ کو پھنسایا ہے تو اب میں ہی بچاؤں گی۔”

ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم میں نے خود کیا تھا، اس لیے کیس کے بنیادی گواہ ہیں، کیس کے حقائق سامنے آنے چاہئیں اور امید ہے کہ محترم جج صاحب آئندہ سماعت پر بیان کا موقع دیں گے۔

انہوں نے تکنیکی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی اسلحے کو مختلف فاصلوں سے استعمال کر چکے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ گولی لگنے کے مقام پر ‘انٹری کا نشان’ ہمیشہ چھوٹا یا بڑا بنے، ہر شخص مکمل نہیں ہوتا اور غلطیوں سے چیزیں خراب نہیں ہو جاتیں۔

ایم ایل او نے بتایا کہ "میں معافی نامہ بھی لکھ کر آیا تھا لیکن بدقسمتی سے پیش کرنے کا موقع نہیں ملا، پچھلی بار میری تیاری نہیں تھی، مگر اس بار میں پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا۔”

انہوں نے کہا کہ جو باتیں میں نے لکھی ہیں، انھیں ثابت کرنے کی کوشش کروں گا، اگر میری دی گئی ٹائم لائن کو سن لیا جائے تو کیس کے بہت سے مبہم پہلو مکمل طور پر واضح ہو جائیں گے۔

کیس میں دیگر متعلقہ فریقین کے کردار اور نئی پیش رفت کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے