• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 10:58 شام
  • پاکستان

’ بنی کریمﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں مستحکم عالم اسلام کی ضرورت ‘

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ ،، تمغہ ء امتیاز،،

ہمارے اس مفصل تجزیاتی مضمون کا عنوان’’عالمی تعلقات کی تعمیر کے لیے مستحکم عالم اسلام کی ضرورت‘‘ ہے۔ سہولت کے لئے اس عنوان کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:

اول: عالمی تعلقات کی تعمیر اور

پہلے حصّے کو ہم اسلامی اصولوں کے مطابق دیکھیں تو یہ کھلی تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام نے ہی د نیا کو پہلا باقائدہ اور جامع آئین اور بین الاقوامی تعلقات کے اصول و ضوابط دیئے۔ انسانی معاشرتی سماجی تاریخ میں قدیم بابل کے بادشاہ حمورابی نے1750 قبل مسیح اپنی سلطنت کے لیے قوانین بنائے تھے جن کو قانون حمورابی یا Code of Hammuraby کہا جا تا ہے۔ اس کے بعد انسانی حقوق کے اعتبار سے 539 قبل مسیح میں قدیم ایران کے بادشاہ سائرس اعظم نے بنیادی اصول دئیے تھے، انگریزاس پر ناز کر تے ہیں کہ 15 جون 1215 ء میں بر طانیہ کے جاگیرداروں نے Magna Carta میگنا کارٹا معاہد ے کے تحت بادشاہ کے اختیارات محدود کر دیئے، یوں دنیا میں جمہوریت کا آغاز ہو ا۔ انگریز میگانا کارٹا کو دنیا کا پہلا آئین کہتے ہیں۔آج دنیا بھر میں عالمی تعلقات ،انسانی حقوق ، ملکوں ، قوموں کی آزادی خودمختاری اور عالمی سطح پر احترام انسانیت کی بنیاد پر حقوق طے کئے گئے ہیں ،اِن تمام حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر اور ہیو من رائٹس ڈیکلریشن عالمی دستا ویز ات ہیں۔ تعریف کی بات یہ ہے کہ آپ میں سے کو ئی بھی گوگل Google پر یہ لکھ کر پوچھیں کہ اقوام متحد ہ کے چارٹر کی بنیاد میں قانون حمورابی اور میگنا کارٹا کا کیا حوالہ ہے ؟ توGoogle گوگل کا جواب یہ ہے ،، اقوام متحدہ کے چارٹر میں قانون حمورابی یا میگنا کارٹا کا براہ راست کو ئی حوالہ مو جود نہیں، البتہ اقوام متحدہ کے تحت عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق (UNHR ) تاریخ کے اولین اور دیگر اہم ترین اصولوں اور قانونی دستاویزات کا بالواسطہ اور فکری حوالہ ملتا ہے۔ انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے ارتقا ء میں اقوام متحدہ کے دور ِ تاسیس میں درج ذیل تاریخی دستاویزات کو بنیادی فکری ماخذ مانا جاتا ہے یعنی سائرس اعظم 539 قبل مسیح کی انسانی حقوق کے تحفظ کی مثالیں اور اس سے کہیں زیادہ اور تحریری تفصیلی ثبوت کے ساتھ آئین مدینہ ( Constitution of Medina) 622 عیسوی کا حوالہ ہے۔ اسے ریاست مدینہ کا آئین قرار دیا جاتا ہے، جسے بنی کریمﷺ کے عہد سے ہی میثاق مدینہ کہا گیا، حقیقت میں یہ میثاق مدینہ دنیا میں ریاستی اختیارات اور عوامی حقوق کے در میان بہترین توازن بھی ہے اور عالمی تعلقات کی بنیادی اور حقیقی اصول بھی اس میں طے کئے گئے ہیں۔ ہم پہلے میثاق مدینہ کا جائزہ لیتے ہیں جسے اقوام متحدہ نےConstitution of Medina ،، آئینِ مدینہ قراردیا ہے۔ میثا ق مدینہ یا آئین مدینہ صرف انسان کا بنایا ہوا آئین نہیں ہے اس کے لیے انسانی ہدایت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم ﷺ پر نازل کی گئی مکمل اور آخری کتاب قرآن مجید بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ پر پہلی وحی 21 رمضان بمطابق 610 ء عیسوی کو مکہ مکرمہ کے قریب واقع غار حرامیں ناز ل ہوئی۔ اعلان نبوت کے بعد حضرت محمدﷺنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ 13 سال مکہ میں کفار کے مظالم اور سختیاں برداشت کیں۔ 12 ربیع الاول بمطابق 24 ستمبر622 ء کو مدینہ ہجرت کی۔ محققین و مورخین کے مطابق ہجر ت کے وقت مکہ اور مدینہ میں مسلمانوں کی کل تعداد تین سو سے پانچ سو تک تھی۔ مکہ مکرمہ میں کفار کا ظلم و ستم تھا جب کہ اس کے مقابلے میں مدینہ میں پُر امن ماحول میںاسلام تیزی سے پھیلا۔ مکہ سے مدینہ ہجر ت کر نے والوں کی تعداد ستر سے سو کے درمیان تھی۔ ہجرت سے قبل حج کے موقع پر مدینہ سے 75 مسلمان مکہ آئے تھے جن میں 2 خواتین اور 73 مرد تھے، جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اِن کے علاوہ کئی لوگ اس سے پہلے بھی مدینہ میں حضرت عمیر ؓ کی تبلیغ سے اسلام قبول کر چکے تھے۔ ہجرت کے بعد مدنیہ میں نبی کریم ﷺ کی حیثیت سیاسی رہنما ، ثالث اور سربراہ ِ ریاست کی ہو گئی۔ یہ اس طرح ہو ا کہ ہجر ت کے فوراً بعد 622 ء ہی میں میثاق مدینہ طے پا یا۔ ہجرت کے بعد مدینہ کی مجموعی آبادی میں مذاہب ، قبائل اور مہاجرین اور انصار کی بنیاد پر معاشرے میں متنوع انداز میں مذہبی ،فکری ، سماجی ثقاتی ارتقا ہوا تھا۔ اس تبدیلی اور ارتقا کو مدنیہ کی مجموعی آبادی نے محسوس بھی کیا۔ حضرت محمدﷺ کے وژن کی بنیاد قرآن تھا اور یہ احکام الہٰی بحیثیت مسلمان انصار ؓ اور مہاجرین ؓ دونوں کے دل ودماغ میں گھر کر چکے تھے۔ مدینہ کے انصار نے مہاجرین کو ایمان کی بنیاد پر اپنا بھائی قرار دیا تھا مگر قبائلی معاشرے میں نسل اور قبیلے کی بنیاد پر ثقافتی فرق موجود تھا مدینہ میں انصار کے دو قبائل اوس اورحزرج جب کہ دوسری جانب یہاں یہودی قبائل بھی آباد تھے۔ میثا ق مدینہ جس کو اقوام متحدہ بھی مکمل آئینی دستاویز تسلیم کرتا ہے ، اس پر گذشتہ چودہ سو برسوں بہت سا تحقیقی کام ہوا ہے اور سینکڑوں عمد ہ کتابیں لکھی جا چکیں ہیں۔

میثاق مدینہ میں حضرت محمد ﷺ کو ریاست مدینہ کا حاکم اعلیٰ تسلیم کیا گیا۔ یہاں حاکم اعلیٰ کی اصطلاح حاضرین، ناظرین اور قارئین کو مغربی طرز جمہوریت کے اعتبار سے سمجھانے کے لیے استعمال کی گئی ہے ، ورنہ یہاں بھی حاکم اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ذات تھی اور اللہ کے نائب طور پر اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تحت حکومت کے اختیارات نبی کریم ﷺ کو حاصل تھے۔ میثاق مدنیہ کے صرف دس برس بعد ریاست ِمدنیہ پورے جزیرۃ العرب پر غالب آ گئی تھی اور نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور حکومت میں بحرین، یمن اور نجران سمیت پورا جزیرۃ عرب ریاست میں شامل ہوچکا تھا۔میثاق مدینہ کی کل 52 شقیں یا آرٹیکلز ہیں اِن آرٹیکلز یا شقوں میں سے 23 شقیں مسلمانوں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے ہیں اور باقی 29 شقیں مسلمانوں اور یہودی قبائل کے تعلقات اور حقوق و فرائض سے متعلق ہیں۔ اہم شقیں یہاں درج کی جارہی ہیں

نمبر1 ۔ مشترکہ قومیت اور ملت کا قیام ( مسلم اتحاد ) اس شق سے میثاق مدینہ میں تمام مسلمان یعنی مکہ سے ہجرت کر نے والے مہاجرین اور یثرب کے انصار مسلمان ایک ملت ،قوم ہوں گے ساتھ ہی یہودی کی شمولیت جو یہودی مدینہ میں تھے اِن کو مسلمانو ں کے برابر کے حقوق حاصل ہوئے نمبر2 ۔ مذہبی آزادی اور تحفظ (اپنے اپنے دین کی بنیاد پر میثاق مدینہ میں یہودیوں اور مسلمانوں کو برابری کے لحاظ سے مکمل مذہبی تحفظ اور آزادی حاصل تھی ) یعنی یہودی اور مسلمان ایک دوسرے کے

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے