• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 1:58 شام
  • پاکستان

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے

برطانیہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرکے وہاں تعینات برطانوی سفارتکاروں کا سفارتی درجہ ختم کیا تو لندن 27 اسرائیلی سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کو برطانیہ سے نکال سکتا ہے۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل میں برطانوی سفیر سائمن والٹرز نے اسرائیلی حکام کو برطانوی حکومت کا پیغام پہنچایا ہے کہ اگر مشرقی یروشلم کے قونصل خانے میں موجود 27 برطانوی سفارتکار متاثر ہوئے تو لندن بھی اسی تعداد میں اسرائیلی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے گا۔ تاہم برطانوی سفارتخانے نے اس رپورٹ پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، جبکہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔

اسرائیل نے برطانوی قونصل خانے کو 8 اکتوبر 2026 تک بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے یہ فیصلہ برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق پابندیوں اور وہاں تیار یا منسلک اشیا کی درآمد پر اقدامات کے جواب میں کیا تھا۔

مشرقی یروشلم کا برطانوی قونصل خانہ تل ابیب میں موجود برطانوی سفارتخانے سے الگ کام کرتا ہے اور یروشلم، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں سے متعلق برطانیہ کے سیاسی اور قونصلر امور میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسرائیل کے اعلان کے بعد اس مشن سے وابستہ برطانوی سفارتکاروں کا سفارتی درجہ ختم ہونے کا بھی امکان ہے۔

برطانیہ نے قونصل خانے کی بندش روکنے کی کوشش بھی کی ہے۔ برطانوی قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور اسرائیلی حکام سے مذاکرات کیے، تاہم قونصل خانہ کھلا رکھنے پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ مذاکرات جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، لیکن 8 اکتوبر کی مقررہ تاریخ قریب آچکی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے قونصل خانے کی بندش کے اعلان کے ساتھ دیگر اقدامات بھی کیے گئے تھے، جن میں غزہ سے متعلق ایک امریکی قیادت والے رابطہ مرکز سے برطانوی نمائندوں کو ہٹانا، رام اللہ میں فلسطینی سیکیورٹی فورسز کی تربیت میں برطانوی کردار ختم کرنا اور بعض برطانوی سیاست دانوں اور شخصیات کے اسرائیل یا مقبوضہ علاقوں میں داخلے پر پابندی شامل ہے۔

برطانوی اور اسرائیلی حکومتوں کے درمیان حالیہ تنازع بنیادی طور پر مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق برطانوی پابندیوں پر ہے۔ لندن کا کہنا ہے کہ بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد سے خطے میں امن اور دو ریاستی حل کے امکانات متاثر ہورہے ہیں، جبکہ اسرائیل نے برطانوی اقدامات کو یک طرفہ اور اسرائیل کے خلاف قرار دیا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے