• ستمبر 19, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 19, 2026 5:59 شام
  • پاکستان

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل

شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی

’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘

پیرس: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد ذرائع سے کیے جانے والے روسی ہائبرڈ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے پیرس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میکرون نے صحافیوں کو بتایا کہ یورپ اور فرانس کو درپیش خطرات میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

خاص طور پر روسی ہائبرڈ خطرے میں اضافہ ہوا ہے۔فرانسیسی صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ متعدد ذرائع سے کیے جانے والے روسی حملے یورپیوں کی طرف سے بغیر کسی جواب کے نہیں رہیں گے۔

ان کا ماننا تھا کہ اگر ماسکو اس روش پر قائم رہا تو وہ ایک سنگین غلطی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد ہمیں ڈرانا اور یوکرینیوں کی حمایت کی کوششوں کو کمزور کرنا ہے۔ نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلے گا۔

انہوں نے مثال کے طور پر اس گرمی کے موسم میں جرمنی کے لائپزگ ہوائی اڈے پر دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون ملنے کا ذکر بھی کیا۔

میکرون نے مزید کہا کہ ہم خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سلامتی، آج اور کل، یوکرین میں داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

فرانس کے صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے فرانسیسی حکومت سے کہا ہے کہ وہ فرانسیسی اہم تنصیبات کو متعدد ذرائع سے کیے جانے والے روسی حملوں سے بچانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے۔ یورپ میں جارحیت کی نوعیت اور روسی خطرات بدل رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر نے اس خطرے کے مقابلے میں بیدار مغزی کو فروغ دینے اور اپنی دفاعی صنعتی اور ٹیکنالوجیکل بنیاد کی سب سے حساس سائٹس اور اہم تنصیبات کو ڈرون حملوں اور سائبر حملوں سے بچانے کا منصوبہ تیار کرنے کا کہا۔

سعودی اتحادی یمنی فورسز کا حوثیوں کیخلاف ایکشن، 30 جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم پائیدار امن اور سلامتی چاہتے ہیں تو ہمیں، اپنی دفاعی اور سکیورٹی کوششوں کو جاری رکھنا ہو گا اور اپنی سائٹس پر شہریوں کی لچک سمیت اپنی قومی لچک کی صلاحیت کو بڑھانا ہو گا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے