• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 2:24 شام
  • پاکستان

راولپنڈی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں علیمہ خانم کے وکیل محمد فیصل ملک پیش ہوئے

راولپنڈی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں علیمہ خانم کے وکیل محمد فیصل ملک پیش ہوئے، علیمہ خانم کے خلاف 26 نومبر کیس میں فیصلہ محفوظ کرنے پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ کیسے علیمہ خانم کی عدم موجودگی میں پروسیکیوٹر کو سن کر فیصلہ محفوظ کر سکتی ہے۔

علیمہ خانم کے وکیل محمد فیصل ملک نے علیمہ خانم کو عدالت میں پیش کروانے کے لیے پروڈکشن ارڈر پر مشتمل درخواست عدالت میں دائر کر دی۔

محمد فیصل ملک نےکہا کہ علیمہ خانم کی عدم موجودگی اور میری استدعا کے باوجود سماعت یکطرفہ کی گئی، کس قانون کے تحت یہ کیا گیا، علیمہ خانم کی عدم موجودگی میں پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل مکمل کی اور فیصلہ بھی محفوظ ہو گیا ہم چیلنج کر رہے ہیں، عدالت سے استدعا کی ہے کہ علیمہ خانم کو فوری طور پر عدالت میں پیش کروائیں، اور جو مقدمے کی سماعت رہتی ہے وہ مکمل کریں پھر چاہے جو فیصلہ ہو وہ محفوظ کر لیں۔

علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر 2024 کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی، اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کے حتمی دلائل مکمل کرلیے۔

پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ مقدمے میں بنیادی طور پر علیمہ خان پر 26 نومبر کے پرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی کا الزام ہے، علیمہ خان نے 22 نومبر 2024 کو اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملات میں 26 نومبر احتجاج کی سازش مجرمانہ کی، علیمہ خان نے 22 نومبر کو بانی سے ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک کے ذریعے عوام الناس کو پرتشدد احتجاج پر اکسایا، علیمہ خان نے 21 نومبر 2024 کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی، علیمہ خان نے پارٹی کو اکسا کر حکومت کو دباو میں لانے اور دھمکانے کی کوشش کی۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ حکومت کو پر تشدد کاروائیوں کے ذریعے دباو میں لانا سنگین جرم اور دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، پراسیکیوشن نے علیمہ خان کی وڈیوز، بیانات اور میٹنگز سے متعلق مواد عدالت میں پیش کیا، پراسیکیوشن نے علیمہ خان کی وڈیوز اور بیانات کا فورنزک تجزیہ بھی کرایا، پراسیکیوشن نے جیل میں احتجاج کی منصوبہ بندی کا سارا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا، علیمہ خان کی ہدایات پر پرتشدد مظاہروں میں ایک پولیس اہلکار کی جان گئی، پرتشدد مظاہروں کے ذریعے سرکاری و نجی املاک اور گاڑیوں کو جلایا گیا۔

پراسیکیوٹر کے مطابق سیاسی مقاصد کی خاطر عوام الناس کو دہشتگردی پر اکسایا گیا، 12 ملزمان کے اقبال جرم سے وقوعہ کا ارتکاب ثابت ہوچکا ہے، جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم نے علیمہ خان کو قصور وار ٹھہرایا، پرتشدد مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کئے گئے، اظہار رائے کے نام پر عوام کو پرتشدد کاروائیوں پر نہیں اکسایا جاسکتا، پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج سے معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا، علیمہ خان نے ٹرائل کے دوران اپنے بیانات کی کبھی تردید نہیں کی۔

عدالت نے حتمی دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا، علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کا فیصلہ کل 23 ستمبر کو سنایا جائے گا۔

کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی، راولپنڈی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے علیمہ خانم کے وکیل محمد فیصل ملک کی جانب سے علیمہ خانم کو پیش کرنے کے لیے دی جانے والی پروڈکشن ارڈر کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی۔

پراسیکیوشن کو درخواست پر دلائل دینے کے لیے طلب کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا گیا۔

محمد فیصل ملک نے عدالت میں دلائل دیے کہ علیمہ خانم خود چاہتی ہیں کہ ان کے مقدمے کی سماعت جلد مکمل کر کے فیصلہ سنایا جائے، انہیں ایک بے بنیاد مقدمے میں گرفتار کیا گیا جس کے تحت وہ عدالت میں اج پیش نہیں ہوئی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے