• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 9:31 شام
  • پاکستان

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس منگل کی صبح آسلام آباد پہنچے اور مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو عالمی امن، ترقی اور اقوام متحدہ کی قیادت کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز سے نواز دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس منگل کی صبح آسلام آباد پہنچے اور مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں جبکہ نشان امتیاز سیکریٹری جنرل کو اعزاز دینے کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور سفارتی کور کے ارکان نے شرکت کی۔

انتونیو گوتریس پاکستان کی جانب سے نشانِ امتیاز حاصل کرنے والے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ہیں۔صدر آصف علی زرداری نے ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی عالمی امن، مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے کوششوں کو سراہا۔

صدر مملکت نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل دو ریاستی حل اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد میں ہے صدر مملکت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور پاکستان بھارت مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو پابند بین الاقوامی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔صدر نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور عالمی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

صدر زرداری نے بتایا کہ دو لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی امن دستے 48 اقوام متحدہ کے مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے صدر نے کہا کہ پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی تبدیلی وجودی چیلنج ہے، عالمی برادری کو ماحولیاتی تحفظ، موافقت اور موسمیاتی مالی معاونت کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کل پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کی بہتر نمائندگی کی بھی حمایت کی۔ اس موقع پر انتونیو گوتریس نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی عوام کی مہمان نوازی، دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں استقامت اور لاکھوں افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کی طویل عرصے تک میزبانی کو قریب سے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حقیقی پاکستان کو جانتے ہیں کیونکہ انہوں نے حقیقی پاکستان کو دیکھا ہے۔

دریں اثنا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشترکہ پریس کانفرنس میں فلسطین، کشمیر، افغانستان، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی امن سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان عالمی امن و سلامتی اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا حامی ہے اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

نائب وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو عالمی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بھارت سے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

انتونیو گوتریس نے امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ سیکرٹری جنرل نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام کی قربانیوں اور استقامت کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

اس سے قبل انتونیو گوتریس نے دفتر خارجہ کا دورہ کیا، جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ان کا پرتپاک استقبال کیا سیکرٹری جنرل نے دفتر خارجہ کے سبزہ زار میں پودا بھی لگایا۔

ملاقات میں اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو اور پاکستان میں قائم مقام اقوام متحدہ کی ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر پرنیل آئرن سائیڈ سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے