• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 3:24 صبح
  • پاکستان

اس سانحے کے اصل اسباب اور متاثرین کے مسائل کو مسلسل عوام دشمن سیاست کی نذر کیا جاتا رہا ہے

11ستمبر کو کراچی کی علی انٹرپرائزز فیکٹری میں پیش آنے والے ’’بلدیہ سانحے‘‘ کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، جو پاکستان کی تاریخ کے بڑے صنعتی سانحات میں شمار ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں ایسے واقعات رونما ہونے کے بعد ان کے حوالے سے الزامات، تحقیقات اور قانونی کارروائیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اگرچہ ایسے سانحات کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنا اور ان کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے.

لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں آگ لگتی ہے اور جہاں سب کچھ جل کر خاک ہو جاتا ہے، وہاں براہِ راست متاثر ہونے والے لوگوں کے درد، ان کے سوالات اور ان کے ساتھ پیش آنے والی ناانصافی کو سمجھنے اور ان کے درد، ان کے سوالات اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو سمجھنا اور ان کا حال پوچھنا ہماری اخلاقی ذمے داری ہے، کیونکہ مزدوروں کی جان و سلامتی کے لیے ضروری حفاظتی انتظامات فراہم کرنا مالک کی بنیادی ذمے داری تھی۔

دیکھا جائے تو اس سانحے کے اصل اسباب اور متاثرین کے مسائل کو مسلسل عوام دشمن سیاست کی نذر کیا جاتا رہا ہے۔ کام کرنے کی جگہوں پر حفاظتی انتظامات کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات اٹھنے چاہئیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق پیشہ ورانہ چوٹوں اور بیماریوں سے متاثر ہونے والے کارکنوں میں زراعت کا حصہ 23.9 فیصد، تعمیرات کا 17.5 فیصد، مینوفیکچرنگ کا 17.4 فیصد، تھوک و پرچون تجارت کا 17 فیصد اور ٹرانسپورٹ کا 11.1 فیصد ہے۔

اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت کا مسئلہ صرف فیکٹریوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدور اس خطرے سے دوچار ہیں۔اس سانحے کے حوالے سے عدالتی فیصلہ بھی آ چکا ہے آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔

نہ مزدوروں کے لیے مناسب سماجی تحفظ ہے، نہ مؤثر یونینیں موجود ہیں اور نہ ہی ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے لیے عالمی اصولوں کے مطابق تربیت دی جاتی ہے۔ایسے حادثات آج بھی روزانہ رونما ہوتے ہیں۔

لیبر ڈیپارٹمنٹ اور سوشل سیکیورٹی کے ادارے زیادہ تر کاغذی کارروائی تک محدود ہیں، جب کہ عملی اقدامات کے معاملے میں حکمران اور متعلقہ ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کا تدارک ضروری ہے۔

اگر کسی فیکٹری میں آگ لگانے کے جرم میں کوئی ملوث ہے تو اسے یقیناً سزا ملنی چاہیے، لیکن فیکٹری مالکان کو اس ذمے داری سے مکمل طور پر بری الذمہ قرار دینا بھی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

مالکان کی مجرمانہ غفلت، حفاظتی انتظامات میں کوتاہی اور بروقت اقدامات نہ کرنے کے باعث اس سانحے میں 260 محنت کشوں کی جانیں ضایع ہوئیں۔ مزدوروں کے تحفظ کے لیے جو اقدامات پہلے کیے جانے چاہییں تھے،وہ آگ لگنے کے بعد کیے گئے یا ان کا دعویٰ کیا گیا۔ اس سانحے کے بعد بھی صنعتوں میں مسلسل حادثات ہوتے رہے ہیں، لیکن مزدور طبقے کو درپیش بڑھتے ہوئے حادثات پر حکومت کی خاموشی بھی کسی جرم سے کم نہیں۔

مقامی اور بین الاقوامی برانڈز اور کمپنیاں مزدور قوانین اور عالمی لیبر معیارات کی پروا کیے بغیر منافع کمانے میں مصروف ہیں۔ آئی ایل او کی کنونشنز، یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس معاہدہ اور مزدور تنظیموں کے ساتھ کیے گئے گلوبل فریم ورک ایگریمنٹس بھی مزدوروں کو… ضمانت دینے میں ناکام رہے ہیں۔

ان کمپنیوں کے مقامی سپلائرز اور نجی سوشل آڈٹ کمپنیاں بھی مزدوروں کے مفادات کے خلاف ایک گٹھ جوڑ کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ اس پورے نظام کو سرمایہ کاری کے نام پر حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ یوں برانڈز، مقامی صنعت کار اور آڈٹ کمپنیاں مل کر مزدوروں کے استحصال اور ان کی جانوں سے کھیلنے کو گویا قانونی جواز فراہم کر رہی ہیں۔

کراچی ملک کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس سروے 2024-25ء کے مطابق ملک میں منظم شعبہ صرف 27.9فیصد روزگار فراہم کرتا ہے، جب کہ ملک میں رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز کی تعداد 1,209 ہے۔صنعتوں میں کام کی جگہوں پر مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لیے مزدور قوانین کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور صحت، تحفظ اور سلامتی سے متعلق محنت کشوں کے بنیادی مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ حکومت بلدیہ سانحے کے متاثرین سے کیے گئے وعدے پورے کرے، انھیں رہائشی پلاٹ فراہم کرے اور متاثرہ خاندانوں کے افراد کو ملازمتیں دی جائیں۔ ای او بی آئی کے تحت شہید محنت کشوں کے والدین کے لیے پنشن کا انتظام کیا جائے،متاثرہ خاندانوں کو گریجویٹی اور گروپ انشورنس کی رقم ادا کرنے کا اعلان کیا جائے۔

تمام بڑے شہروں، خصوصاً سندھ کے دارالحکومت کراچی میں جدید فرانزک لیبارٹری قائم کی جائے۔ غیر ملکی برانڈز کو ملکی قوانین کا پابند بنایا جائے، نجی سوشل آڈٹنگ کے موجودہ نظام کو ختم کرکے مؤثر لیبر انسپیکشن کا نظام قائم کیا جائے۔کام کی جگہوں پر محنت کشوں کی جان و سلامتی یقینی بنانے کے لیے صحت اور حفاظتی قوانین و اصولوں پر بلا تاخیر عمل درآمد کیا جائے۔

محنت کشوں کی ہلاکت کے مقدمات درج کیے جائیں۔سرکاری اداروں کی غفلت پر ان کے خلاف کارروائی کے نظام کو مؤثر اور مضبوط بنایا جائے۔ ٹھیکیداری اور جمعداری کا نظام ختم کیا جائے، یونین سازی کا حق تسلیم کیا جائے اور محنت کشوں کے تمام جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔صنعتوں میں کام کا نظام محنت کشوں کے حقوق اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا جائے، تاکہ وہ محفوظ اور باعزت زندگی گزار سکیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے