• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 2:24 شام
  • پاکستان

مرغیوں کی پُراسرار گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا

عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

جب 24 سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

واشنگٹن (22 ستمبر 2026): صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلکن میں ان کی مخالفت بڑھنے لگی اور سینیٹ کے دو امیدواروں نے ایران جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی سینیٹ کی سخت مقابلے والی نشستوں مشی گن اور آیووا سے الیکشن کے میدان میں موجود دو ریپبلکن امیدواروں ہنسن اور راجرز نے ایران جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

مشی گن میں ڈیموکریٹ عبدل السید کے خلاف سخت مقابلے میں مصروف مائیک راجرز اور آیووا میں ڈیموکریٹ جوش ٹورک کا سامنا کرنے والی ایشلے ہنسن نے پیر کے روز ایران کے معاملے پر نسبتاً نرم موقف اختیار کیا۔ جب کہ اس سے قبل وہ تہران پر حملے کے لیے ٹرمپ کے اختیارات کی حمایت کر چکے تھے۔

یہ تبدیلی خاص طور پر ہنسن کے معاملے میں قابلِ ذکر ہے، جو امریکی ایوانِ نمائندگان کی موجودہ رکن ہیں اور جنہوں نے ماضی میں چھ بار ایوان کی ان قراردادوں کے خلاف ووٹ دیا جن کا مقصد جنگ جاری رکھنے کے ٹرمپ کے اختیار کو محدود کرنا تھا، اس میں گزشتہ ہفتے کی گئی ووٹنگ بھی شامل ہے۔

ہنسن نے سوشل میڈیا پر لکھا، "آیووا کے عوام معاشی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں ایران جنگ کی قیمت پیٹرول پمپ یا خریداری کے کاؤنٹر پر ادا نہیں کرنی چاہیے۔” انہوں نے گیسولین ٹیکس معطل کرنے، ڈیزل کی برآمدات روکنے اور دیگر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کو "کامیاب اور فوری انجام تک پہنچایا جائے۔”

تاہم پیر کے روز راجرز نے ایک گروسری اسٹور میں خطاب کرتے ہوئے اپنے سابقہ موقف سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے اور وہ بھی جلد۔ جب ایسا ہوگا تو توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ لیکن مشی گن کے خاندان اس کے وقوع پذیر ہونے کا مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ ہمیں ابھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔”

راجرز نے ریاستی اور وفاقی سطح پر پیٹرول پر عائد ٹیکسوں کو معطل کرنے اور امریکی ڈیزل کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

واضح رہے کہ یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب صدر ٹرمپ کی مقبولیت امریکا کی 250 سال تاریخ میں انتہائی نچلی سطح پر گر کر 29 فیصد ہو چکی ہے۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کمزور پوزیشن والے امیدوار اس تنازعے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؛ تاکہ اس کا انہیں سیاسی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔

اس یوٹرن پر ڈیموکریٹس کا کہنا تھا کہ ہنسن اور راجرز کی جانب سے جنگ کے فوری خاتمے کے مطالبات دراصل ریپبلکنز کی جانب سے انتخابی سال میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس سے قبل وہ اس تنازعے سے نمٹنے کے حوالے سے ٹرمپ کے اقدامات کی حمایت کر چکے تھے۔

صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح پہلی بار 29 فی صد رہ گئی

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے