• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 10:39 شام
  • پاکستان

روس نے غیرملکی شہریوں اور سفارت کاروں پر بھی زور دیا کہ وہ یوکرین کے دارالحکومت کیف چھوڑ دیں

روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں ایک اور اہم پل کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہفتے کی صبح ہونے والے حملے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے جبکہ پل کی سڑک اور ٹرالی بس کی بجلی کی تاروں کو نقصان پہنچا۔

حملے میں دریائے ڈنیپرو پر واقع پیونچنی (ناردرن) پل متاثر ہوا۔ پل پر ٹریفک روک دی گئی اور شہر میں مختلف مقامات پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا۔

یہ اس ہفتے کیف کے اہم پلوں پر روسی حملوں کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے ایک روز قبل پیودینی (سدرن) پل کو بھی متعدد روسی ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

جس کے باعث شہر کے دونوں حصوں کے درمیان آمدورفت شدید متاثر ہوئی۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان ڈرون حملوں میں ایسے پلوں کو نشانہ بنایا گیا جو یوکرینی فوجیوں اور فوجی سازوسامان کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

روسی حکام نے غیرملکی شہریوں اور سفارت کاروں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ یوکرین کے دارالحکومت کیف چھوڑ دیں۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پلوں، اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر شہریوں کو اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔

روس کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں یوکرین کے روسی توانائی تنصیبات پر حملوں کا جواب ہیں۔

کیف کے میئر نے شہر کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی حملے اہم انفرااسٹرکچر، رہائشی علاقوں اور لاجسٹک مراکز کو متاثر کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ڈرون حملوں سے پلوں کا فوری طور پر منہدم ہونا مشکل ہے تاہم مسلسل حملے ان کے ڈھانچے کو کمزور کرکے انہیں طویل عرصے کے لیے ناقابلِ استعمال بنا سکتے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے