• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 11:22 شام
  • پاکستان

ٹی وی اینکر براہِ راست نشریات کے دوران ’’اچانک غائب‘‘ ہو گئی!

دنیا میں پہلی بار ’’موٹے‘‘ بچوں کی تعداد ’’دُبلے‘‘ بچوں سے زیادہ ہو گئی!

برف کے بیچوں بیچ آتش فشاں پھٹ پڑا، حیرت انگیز ویڈیو

دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

ٹوکیو : ایک جاپانی شخص نے اپنی مقتولہ بیوی کے قتل کا معمہ حل ہونے کی امید میں 26 سال تک کرائے کا وہ گھر خالی رکھا جہاں اسے قتل کیا گیا تھا۔

شوہر نے اس دوران گھر کا کرایہ ادا کیا، خون کے دھبے صاف نہیں کیے اور گھر میں موجود اشیا کو بھی جوں کا توں رہنے دیا۔ 26 سال بعد پولیس نے دوبارہ تفتیش شروع کی تو مقتولہ کے شوہر کی سابق ہم جماعت نے خود پولیس کے سامنے پیش ہوکر اعترافِ جرم کرلیا۔

جاپانی میڈیا رپورٹ کے مطابق ناگویا شہر میں 13 نومبر 1999 کو 39 سالہ خاتون نامیکو تاکابا اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں، انہیں گردن پر تیز دھار آلے سے متعدد وار کرکے قتل کیا گیا تھا، جبکہ ان کا دو سالہ بیٹا بھی جائے وقوعہ پر موجود تھا تاہم وہ محفوظ رہا۔

پولیس نے قتل کی تحقیقات کے دوران تقریباً ایک لاکھ اہلکاروں کو تفتیشی کارروائیوں میں شامل کیا اور 5 ہزار افراد سے پوچھ گچھ کی، لیکن قاتل کا سراغ نہ مل سکا۔

تحقیقات کے دوران صرف اتنا معلوم ہوا کہ مشتبہ قاتل ایک خاتون تھی، اس کا بلڈ گروپ بی تھا، قد تقریباً 1.6 میٹر تھا اور اس نے 24 سینٹی میٹر سائز کے جوتے پہن رکھے تھے۔ پولیس نے قاتل کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا تھا لیکن کوئی کامیابی نہ مل سکی ۔

مقتولہ نامیکو کے شوہر ساتورو تاکابا نے اپنی بیوی کے قتل کے بعد اس گھر کو خالی چھوڑ دیا اور خود اپنے بیٹے کے ساتھ دوسری جگہ منتقل ہوگئے۔ انہوں نے دوبارہ شادی بھی نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے گھر اس امید پر محفوظ رکھا کہ کبھی نہ کبھی کوئی نیا سراغ سامنے آئے گا۔

رپورٹ کے مطابق تاکابا نے 26 برس کے دوران خالی گھر کا مجموعی طور پر تقریباً 22 ملین ین، یعنی ایک لاکھ 45 ہزار امریکی ڈالر کرایہ ادا کیا۔ انہوں نے گھر کی صفائی بھی نہیں کروائی اور جائے وقوعہ پر موجود خون کے دھبے سمیت بیشتر اشیا کو اسی حالت میں رہنے دیا۔

وہ کئی برس تک سڑکوں پر پمفلٹ تقسیم کرکے عوام سے اس قاتل کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اپیل کرتے رہے اور میڈیا کو بھی انٹرویوز دیتے رہے۔

گزشتہ برس پولیس نے یہ کیس دوبارہ کھولا اور تحقیقات کا رخ مقتولہ کے خاندان اور اس سے وابستہ افراد کی جانب موڑ دیا۔ آخرکار 30 اکتوبر کو 69 سالہ قاتلہ کومیکو یاسوفوکو خود پولیس کے سامنے پیش ہوگئی۔

یاسوفوکو سے ماضی میں بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی، تاہم انہوں نے اس وقت ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے خون کا نمونہ دینے سے انکار کردیا تھا۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والے خون کے نمونے سے حاصل کیا گیا ڈی این اے یاسوفوکو سے میچ کرگیا، جس کے بعد انہیں قتل کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پولیس کو دیے گئے بیان میں یاسوفوکو نے کہا کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے ہر روز اس واقعے کے بارے میں سوچ کر پریشان رہتی تھیں اور ہر سال 13 نومبر کو انہیں شدید بے چینی اور افسردگی محسوس ہوتی تھی۔

ملزمہ کا کہنا تھا کہ وہ خاندان کی مشکلات کے پیش نظر گرفتاری سے بچنا چاہتی تھی تاہم اگست میں پولیس کے رابطے کے بعد گرفتاری دینے کے لیے خود کو تیار کیا اس نے کہا کہ وہ نامیکو سے معافی مانگنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب ساتورو تاکابا نے بتایا کہ ملزمہ کا نام سامنے آنے پر انہیں شدید حیرت ہوئی کیونکہ وہ اسے اپنی مقتول بیوی کا قاتل تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔

دراصل ملزمہ یاسوفوکو مقتولہ کے شوہر کی اسکول کے زمانے کی ہم جماعت طالبہ تھیں اور ماضی میں ان سے محبت کا اظہار بھی کرچکی تھی۔ انہوں نے تاکابا کو ویلنٹائن ڈے پر چاکلیٹ اور محبت بھرا خط دیا تھا، تاہم تاکابا نے اس کی پیشکش مسترد کردی تھی۔

بعد ازاں دونوں میں کوئی خاص رابطہ نہیں رہا اور قتل سے ایک سال قبل ان کی اتفاقاً ایک بار ملاقات ہوئی تھی۔ تاکابا کے مطابق اس ملاقات میں یاسوفوکو نے بتایا تھا کہ وہ شادی شدہ ہے لیکن ملازمت بھی کررہی ہے۔

تاکابا کا کہنا تھا کہ قتل سے قبل یاسوفوکو نے کبھی انہیں یا ان کے خاندان کو ہراساں نہیں کیا، اسی لیے انہیں کبھی شک نہیں ہوا کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہوسکتی ہیں۔

علاوہ ازیں پڑوسیوں نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ قتل کے واقعے سے قبل مقتولہ کے گھر سے جھگڑے کی آوازیں بھی سنائی دی تھیں۔

ملزمہ کی گرفتاری کے بعد تاکابا کے دوستوں نے انہیں مبارک باد دی۔ شوہر کا کہنا تھا کہ اب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اتنے برس تک گھر کا کرایہ ادا کرنا بے مقصد نہیں گیا، تاہم قاتلہ کے حوالے سے اب بھی شدید حیرت میں مبتلا ہوں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے