• ستمبر 17, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 17, 2026 4:18 شام
  • پاکستان

اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ انسانی حقوق کونسل کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی

جنیوا: ایران کے بارے میں اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی مشن نے کہا ہے کہ اسے اس بات پر یقین کرنے کی معقول بنیادیں ملی ہیں کہ فروری میں ایران کے ایک اسکول اور کھیلوں کے مرکز پر ہونے والے دو امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن کی نئی رپورٹ میں فروری سے جاری ایران جنگ کے دوران امریکا کی فوجی کارروائیوں اور ایران میں ہونے والی انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کو یقین کرنے کی معقول بنیادیں ملیں کہ صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں شاجرے طیبہ پرائمری اسکول پر حملے کی ذمہ داری امریکی افواج پر عائد ہوتی ہے۔ حملے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 120 اسکول کے بچے شامل تھے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق اسکول واضح طور پر ایک شہری عمارت تھی اور انہیں ایسے شواہد نہیں ملے کہ اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔

تحقیقاتی مشن نے صوبہ فارس کے شہر لامرد میں ایک کھیلوں کے مرکز پر ہونے والے امریکی حملے کے بارے میں بھی اسی نوعیت کے نتائج اخذ کیے ہیں۔

دوسری جانب رپورٹ میں ایران کے اندر حکومت کی جانب سے ملک گیر احتجاج کے خلاف کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ماہرین کے مطابق ایرانی حکام کی کارروائیوں میں انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ انسانی حقوق کونسل کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ رپورٹ میں امریکا اور ایران دونوں سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے، تاہم جنگی جرائم سے متعلق حتمی قانونی فیصلہ کسی عدالت یا مجاز عدالتی ادارے کے دائرہ اختیار میں ہوگا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے