• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 2:48 صبح
  • پاکستان

ایران کے بہادر جنگجوؤں اور آبنائے ہرمز کے محافظوں کے حملوں کے بعد دشمن اب بحیرۂ عرب سے آگے آنے کی ہمت نہیں کرتا

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا کو مشرقِ وسطیٰ سے نکلنا ہوگا دشمن قوتوں کو آبنائے ہرمز کے محافظوں کے ہاتھوں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور جلد بحیرۂ عرب بھی ان کی موجودگی سے پاک ہوجائے گا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے پیر کو اپنے تحریری بیان میں کہا کہ ایران کے بہادر جنگجوؤں اور آبنائے ہرمز کے محافظوں کے حملوں کے بعد دشمن اب بحیرۂ عرب سے آگے آنے کی ہمت نہیں کرتا۔

انھوں نے امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ جب بھی دشمن قوتوں نے اس خطرے کو مول لیا انہیں نقصان اٹھانا پڑا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب بحیرۂ عرب بھی ان کی موجودگی سے خالی ہوجائے گا۔

سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی محافظوں کے جوابی حملوں کے نتیجے میں امریکا بحیرہ عرب اور مشرو وسطیٰ سے بھاگنے مجبور ہوجائے گا جیسا وہ آبنائے ہرمز کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کے ذریعے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کردیا ہے اور بعض حلقوں میں اسے دنیا کی چوتھی سپر پاور سمجھا جانے لگا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کبھی انحصار اور کمزوری کے دور سے گزرا تھا تاہم اب ملک خودمختاری، طاقت اور اسلامی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرچکا ہے۔

ان کے بقول ماضی میں ایران پر غلبہ حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والی قوتوں کو اب ایرانی عسکری صلاحیتوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن ایران کو ماضی کی جانب دھکیلنا چاہتا ہے لیکن وہ دور گزر چکا اور دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ موجودہ حالات میں وہ طاقتیں جو کبھی جارحیت اور غلبے کی پالیسی اپناتی تھیں اب جنگ کے خاتمے اور تحفظ کی تلاش میں ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایرانی جنگجوؤں اور آبنائے ہرمز کے محافظوں کی کارروائیوں کے بعد دشمن قوتیں بحیرۂ عرب سے آگے بڑھنے سے گریز کررہی ہیں اور جلد یہ سمندر بھی ان کی موجودگی سے خالی ہوجائے گا۔

سپریم لیڈر خامنہ ای کے بیان میں امریکا کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا تاہم اسے امریکی افواج کے لیے واضح پیغام قرار دیا جارہا ہے۔

اس بیان کی اہمیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور نیویارک میں بیک ٹو ڈور مذاکرات متوقع ہیں۔

واضح رہے کہ مجتبیٰ خامنہ 28 فروری کو مبینہ طور پر اس حملے میں زخمی ہوگئے تھے جس میں ان کے والد آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔ پھر انھیں سپریم لیڈر منتخب کیا گیا لیکن وہ تاحال منظرعام پر نہیں آئے۔ ان کے بیانات سرکاری چینل پر پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے