• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 8:23 شام
  • پاکستان

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

صفورہ چورنگی کے قریب جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف ساقی پر تشدد کے واقعے میں نیا موڑ آگیا۔ کونین شاہ کے والد نے تشدد کا نشانہ بننے والے پروفیسر پر ہی الزامات لگا دیے.

سیدعلی گوہرشاہ کا کہنا ہے کہ پروفیسرعارف ساقی دن میں 4 باربیان تبدیل کر رہے ہیں کبھی کہتے ہیں مجھے کونین شاہ نے مارا کبھی کہتے ہیں گارڈز نے مارا، وہاں موجود لوگوں نے بتایا پروفیسر کار میں نہیں موٹرسائیکل پر تھے۔

علی گوہرشاہ کے مطابق حقیقت یہ ہے انہوں نےکونین شاہ کی گاڑی کو پیچھے سے ٹکر ماری پھر پروفیسر مشتعل ہوا اور گالم گلوچ کی جس پر واقعہ پیش آیا، بیٹے نے پروفیسر کو نقصان کے ازالے اور گاڑی بنوا کر دینےکی بات کی۔

پروفیسر عارف ساقی تشدد کیس، اے آر وائی نیوز نے ایف آئی آر کی کاپی حاصل کر لی

والد نے کہا کہ پروفیسرعارف ساقی کو خود نہیں معلوم کہ انہیں کس نے مارا، گاڑی کا نمبر اور دیگر تفصیلات بھی پروفیسر کے بیان میں موجود نہیں، ٹکر کے بعد میرے بیٹے کی گاڑی کا زبردستی دروازہ کھولنےکی کوشش کی، گن کابٹ مارنے کا الزام درست نہیں ہاتھوں سے مارنے کا واقعہ ہوا، گن مین ہماری حفاظت کیلئےہوتے ہیں انہیں قربانی کابکرا نہیں بنایا جا سکتا، ایف آئی آر بنتی ہے تو تمام فریقوں کا مؤقف اور شواہد سامنے آنے چاہئیں۔

علی گوہرشاہ کا کہنا تھا کہ پروفیسرعارف ساقی کا لوگوں کو پتا ہے یہ کتنے چالاک ہیں عارف ساقی کا ایک متعصب سیاسی جماعت کے ساتھ تعلق ہے پیپلزپارٹی کیلئےمیں نے بہت قربانیاں دی ہیں کسی سے رحم کی اپیل نہیں کروں گا بس انصاف کیا جائے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے