• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 6:58 شام
  • پاکستان

کسانوں کے حقوق کے تحفظ اور مطالبات کی منظوری تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا، رہنماؤں کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس

چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے کسانوں اور زمینداروں کے مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کردیا اور کہا ہے کہ ملک بھر سے قافلے احتجاج میں شریک ہوں گے۔

کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد حسین باٹھ نے کہا کہ کسانوں اور زمینداروں کے مسائل اجاگر کرنے اور ان کے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جا رہا ہے، جس میں ملک بھر سے کسانوں کے قافلے شریک ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسان اتحاد کسانوں کے حقوق کے تحفظ اور مطالبات کی منظوری تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ملک بھر کا کسان اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے، جبکہ گزشتہ تین برس کے دوران حکومتی زرعی پالیسیوں کے باعث کاشت کاروں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

خالد حسین باٹھ کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید متاثر کی ہے اور سستی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے بیوروکریسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکام زمینی حقائق اور کسانوں کو درپیش مسائل سے پوری طرح آگاہ نہیں، جبکہ غیر مؤثر پالیسیوں اور ناقص فیصلوں کے باعث زرعی شعبہ بحران کا شکار ہے۔

چیئرمین کسان اتحاد نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں زراعت کے شعبے کے لیے زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے اور کسانوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، اس لیے زرعی شعبے کو ترجیح دی جانی چاہیےانہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں جاری تمام ترقیاتی کام روک کر زراعت کے شعبے پر توجہ دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسان خوشحال ہوگا تو بلوچستان اور پاکستان بھی خوشحال ہوگا، کسان ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے زرعی شعبے کی بحالی اور کسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زرعی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ کسان اتحاد کے قافلے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں، جبکہ مارچ میں ملک کے مختلف شہروں سے مزید کسانوں کے قافلے شامل ہوں گے۔۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے