• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 1:38 صبح
  • پاکستان

سمندر میں 3200 میٹر کی گہرائی میں بلیک باکس کی نشاندہی پاک بحریہ کی اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے، ذرائع

کراچی: رواں سال جولائی میں کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے بعد پاک بحریہ کی جانب سے طیارے کے زیرِ آب ملبے کی تلاش کا آپریشن گزشتہ 2 ماہ سے مسلسل جاری ہے اور پاکستان نیوی نے سمندر میں 3200 میٹر کی گہرائی میں طیارے کے بلیک باکس کے مقام کی نشاندہی کرلی۔

ذرائع کے مطابق انتہائی مشکل اور پیچیدہ سمندری حالات کے باوجود پاک بحریہ کے جہازوں نے نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹفک کمیشن (نیس کوم)کےتیار کردہ خصوصی آلات کی مدد سے طیارے کے زیرِ آب ملبے اور بلیک باکس کے مقام کا سراغ لگایا۔

بحری جہازوں میں خصوصی آلات اورسونار کی مدد سے پاک بحریہ کی جانب سے بلیک باکس کی کامیاب نشاندہی سے متعلق معلومات بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن (باسی) کو فراہم کردی گئی ہیں۔

کےٹو ایئرویز کارگو طیارے کی انشورنس پالیسی مبینہ طور پر حادثے سے قبل ختم ہونے کا انکشاف

کارگو طیارہ حادثےکی تحقیقات کیلیے بیوروآف ائیرکرافٹ سیفٹی انویسٹیگیشن کی ٹیم دوبارہ پاکستان پہنچ گئی

کے ٹو ایئرویز کارگو طیارے حادثہ؛ رجسٹریشن اور ملکیت سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں

ذرائع کے مطابق سمندر میں 3200 میٹر کی گہرائی میں بلیک باکس کی نشاندہی پاک بحریہ کی اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے، تاہم بلیک باکس اور طیارے کے ملبے کے دیگر حصوں کو سمندر کی انتہائی گہرائی سے نکالنے کے لیے ڈیپ سی سالویج آپریشن درکار ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیپ سی سرچ اور سالویج آپریشن کے لیے بیرونِ ملک ماہرین کی ٹیموں سے رجوع کرنے کا عندیہ پہلے ہی دیا جاچکا ہے، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے بلیک باکس کی بازیابی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے