• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 1:23 شام
  • پاکستان

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

نوجوان لڑکوں کو سفاکی سے قتل کرنیوالے سیریل کلر کا بھیانک انجام

نیویارک: دنیا کی ارب پتی شخصیت اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کا کہنا ہے کہ چند برسوں میں انسان نما روبوٹس کا استعمال اتنا بڑھ جائے گا کہ لوگ اپنے معمر والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ذاتی روبوٹس استعمال کرنے لگیں گے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اُن کا کہنا تھا کہ بچوں کی تعلیم سمیت بہت سے دیگر امور بھی روبوٹس ہی کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دس سال میں انسان نما روبوٹس کی تعداد ایک ارب تک پہنچ جائے گی، انسان نما روبوٹس کی تعداد 15 برس میں 10 ارب اور 20 سال میں 100 ارب تک پہنچ جائے گی۔

مسک نے مشورہ دیا کہ ممکن ہو تو چین ضرور جائیں، وقت محدود ہو تو شنگھائی اور بیجنگ ضرور جائیں۔

اس سے قبل ایلون مسک نے حیران کن پیشگوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ مصنوعاتِ ذہانت سال 2027 کے اختتام تک تقریباً تمام ڈیجیٹل امور کی انجام دہی میں انسانوں سے آگے نکل کر ”سُپر ہیومن”صلاحیتوں کی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔

سال 2027 میں کیا ہونے والا ہے؟ ایلون مسک کی حیران کن پیش گوئی

مسک نے یہ بات ایکس پر ہونے والی گفتگو کے دوران کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ رفتار سے ترقی جاری رہی تو اے آئی اگلے سال کے اختتام تک ڈیجیٹل دنیا میں ”سپر ہیومن“ صلاحیتوں کی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔

مسک کا کہنا تھا کہ ترقی کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو اے آئی جلد ہی ان میں سے کئی شعبوں میں انسانی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے