پرانا سامان خریدنے والی فیملی کو سوٹ کیس سے کیا ملا؟ دل دہلا دینے والا واقعہ
مرغیوں کی پُراسرار گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا
عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق
شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ
ٹرمپ نے امریکی ہتھیاروں کی کمی کی بات کرنے والوں کو غدار قرار دیدیا۔
صدر ٹرمپ نے بیان میں کہا ہے کہ بزدل اور غدار یہ کہنا چاہتے ہیں کہ امریکا کے پاس گولہ بارود کم ہے حالانکہ امریکا کے پاس گولہ بارود کی کوئی کمی نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ گولہ بارود ہے امریکا گولہ بارود کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے اور اسوقت گولہ بارود کی پیداوار میں ریکارڈ سطح پر کام کر رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این باخبر دو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی فوج اپنے تھاڈ میزائلوں کے ذخیرے کا لگ بھگ 80 فیصد حصہ استعمال کر چکی ہے، جبکہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ’پیٹریاٹ‘ انٹرسیپٹرز کا بھی تقریباً نصف ذخیرہ خالی ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گولہ بارود کے کم ہوتے ان ذخائر اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں پر ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملوں کا منصوبہ منسوخ کرنے پر آمادہ کیا۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے بھی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اس جنگ میں امریکا نے انتہائی درست نشانہ لگانے والے اپنے تمام میزائل بظاہر استعمال کر لیے ہیں۔
ایران جنگ میں امریکا نے کون سے میزائل استعمال کیے
خبر ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار سے واقف تین افراد کے مطابق، امریکی فوج نے ایران کے ساتھ اپنی پانچ ماہ کی جنگ کے دوران انتہائی درست طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے اپنے ذخیرے کا زیادہ تر استعمال کیا ہے جس سے مستقبل کے تنازعات کے لیے فوج کی تیاری کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
یہ میزائل بنیادی طور پر فوج کے سطح سے زمین پر مار کرنے والے ہتھیار ہیں، جنہیں آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز (ATACMS) اور Precision Strike Missiles (PrSM) کہا جاتا ہے۔
دو ذرائع کے مطابق امریکا نے ان ہتھیاروں میں سے "عملی طور پر تمام” میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔
فوج کے پاس اے ٹی اے سی ایم ایس اور پریسجن اسٹرائیک میزائل کس حد تک ختم ہو رہے ہیں اس کی پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
طویل فاصلے تک مار کرنے والے یہ میزائل جس کی لاگت $1 ملین سے زیادہ ہے – فوج کے ہتھیاروں کا ایک اہم حصہ ہیں جو محفوظ فاصلے سے درست حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یوکرین کی جنگ میں امریکا کی طرف سے فراہم کردہ ATACMS نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس سے یوکرین کی افواج کو روس کے اندر اہداف پر حملہ کرنے کی سہولت ملی۔
درست، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں ڈرامائی کمی کا مطلب ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کرتے ہیں تو انہیں خطرناک، پائلٹ بمباری کے مشن پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا۔
امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی، میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کیلیے معاہدہ
