• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 7:16 شام
  • پاکستان

ٹریفک ای چالان اب بجلی کے بل میں لگ کر آئیں گے؟ تجویز پیش کر دی گئی

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

اداکار ٹام آلٹر کا نام سن کر اکثر لوگوں کو مغالطہ ہوجاتا ہے کہ وہ انگریز اور غیر ملکی ہوں گے، لیکن وہ امریکی نژاد ہندوستانی تھے۔ ٹام آلٹر بھارت میں پیدا ہوئے اور اردو زبان کے متوالے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ان کی ‘پدری زبان انگریزی ہو سکتی ہے، لیکن مادری زبان اردو ہی ہے’۔

ٹام آلٹر کا یہ تذکرہ ان کے یومِ وفات کی مناسبت سے کیا جارہا ہے۔ کینسر کے مرض میں مبتلا اداکار ممبئی کے ایک اسپتال میں 29 ستمبر 2017ء کو چل بسے تھے۔ ان کا تعلق ایک مسیحی مشنری خاندان سے تھا اور ان کے والد کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی تھی۔ بولی وڈ کی فلموں ’شطرنج کے کھلاڑی،‘ ’کرانتی‘ اور ’رام تیری گنگا میلی‘ کے علاوہ کئی ڈراموں میں ٹام آلٹر نے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ٹام آلٹر نے اردو سیکھنے کے بارے میں ایک جگہ لکھا تھا، ‘اردو سیکھنے کی کہانی کچھ یوں ہے کہ مجھے اپنے والدین سے جو چیز وراثت میں ملی ہے ان میں سے ایک اردو بھی ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ میرے والد صاحب کی پیدائش سیالکوٹ کی ہے،اس زمانے میں وہ ایک پادری تھے، ان کے والد بھی پادری تھے۔ پنجاب (غیر منقسم پنجاب) کے گرجا گھروں میں تقسیم سے پہلے عیسائیوں کی عبادت اردو میں ہوتی تھی، ہم نے اپنے بچپن میں لفظ بائبک کبھی سنا ہی نہیں، ہمیشہ انجیل مقدس ہی کانوں میں پڑا۔

پنجاب کے گرجا گھروں میں روزانہ صبح سات بجے سے پونے آٹھ بجے تک پینتالیس منٹ کی عبادت اردو میں ہوتی تھی۔ میرے والد صاحب اکثر بیمار رہتے تھے۔ وہ ذیابیطس کے مریض تھے، اس لیے ان کے پاس ایک چھوٹی سی میز تھی جس پر طرح طرح کی دوائیاں رکھی رہتی تھیں۔ان کو چوں کہ شوگر کی شکایت تھی جس کی وجہ سےانہیں ٹافی وغیرہ کھانی ہوتی تھی، اس لیے وہ میز پر ٹافی کا ایک ڈبہ رکھتے تھے اور اسی ڈبے کے بغل میں بائبل یعنی انجیل مقدس بھی رکھی رہتی تھی۔

اس وقت مجھے اردو پڑھنی نہیں آتی تھی، اس لیے میں ان سے پوچھتا تھا کہ یہ کیا ہے؟ تو وہ بتاتے تھے ٹام یہ انجیل مقدس ہے۔ اردو رسم الخط مجھے شروع سے ہی اچھا لگتا تھا اس لیے جب باقاعدہ اردوپڑھنی شروع کی تو کسی طرح کی پریشانی نہیں ہوئی۔’

معروف شاعر، فکشن نگار اور نقاد غضنفر کی کتاب خوش رنگ چہرے میں ٹام آلٹر کا خاکہ ان کے فن و شخصیت سے واقف کرواتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

زبانِ شیریں کے شیدائیوں کی فہرست میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جس نے اردو میں کوئی شعر تو نہیں کہا اور نہ ہی کوئی افسانہ لکھا اور جس کا نام بھی ایسا ہے کہ جو اردو سے کسی طرح سے بھی لگّا نہیں کھاتا اور جس میں ایک ایسی آواز بھی شامل ہے جو ایک بار نہیں بلکہ دو دو بار ذہن کے پردے پر ٹائیں ٹائیں کرتی ہے اور جو اردو کے مزاج کی رو سے غیر فصیح گردانی جاتی ہے مگر دو دو ٹ والا یہ نام اردو زبان سے ایسا جڑ گیا ہے کہ جب بھی فصیح، سلیس اور شیریں اردو بولنے والوں کا ذکر آتا ہے تو یہ نام بھی ضرور سماعت میں گونج پڑتا ہے۔

یہ اس شخص کا نام ہے جس کے بال، گال، کھال، خصال سبھی سفید ہیں۔ ایسے سفید جن سے روشنی پھوٹتی ہے۔ ایسی روشنی جو ادراک و شعور کو روشن کرتی ہے۔ جن سے شفافیت چھنتی ہے۔ ایسی شفافیت جو دیکھنے والے کے دل و دماغ میں کیف و سرور بھر دیتی ہے۔ جی ہاں آپ نے صحیح سمجھا وہ ٹام آلٹر ہی ہے۔

وہی ٹام آلٹر جس کے ٹام میں بھی ٹ اور آلٹر میں بھی ٹ موجود ہے۔ جو فلم ایکٹر، ڈائریکٹر، اسپورٹ جرنلسٹ، ٹیلی ویژن اور اسٹیج آرٹسٹ کے ساتھ ساتھ کمپیئرر اور پریزینٹر کی حیثیت سے بھی کافی مشہور ہے۔ جو مختلف ٹی وی شوز کے علاوہ تقریباً 300 سے بھی زیادہ فلموں میں کام کر چکا ہے۔ جو درجنوں فلموں میں بہترین ہدایت دے چکا ہے۔ جس کا ایک سیریل تو ٹی وی چینل پر مسلسل پانچ سالوں تک چلتا رہا اور جس میں ایک سیدھا سادہ صاف شفاف اور شریف انسان ایک لمبی مدت تک ایک خطرناک ڈاکو کا کردار نبھاتا رہا۔ جس نے مشہور ہدایت کار مہیش بھٹ کی ہدایت میں فلمی دنیا کو تین ایسی فلمیں دیں جن میں عاشقی جنون تک پہنچی اور جنون میں عقل کو گمراہ ہونا پڑا۔

جس نے نہ صرف ہندی فلموں میں کامیاب اداکاری کی بلکہ مقامی بولیوں بنگلہ آسامی، تیلگو تمل، کمایوں کے علاوہ انگریزی فلموں میں بھی اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور دیسی سانچوں میں ڈھل ڈھل کر یہ دکھا دیا کہ انسان کسی بھی رنگ روپ کا کیوں نہ ہو اس کی خمیر ایک ہے اور شاید تعمیر بھی ایک۔ جس کو سنیما کے میدان میں اس کی بہترین کارکردگی کے لیے حکومت کی جانب سے پدم شری جیسا پروقار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

ٹام آلٹر صرف شعر ہی اچھا نہیں پڑھتے بلکہ نثر خوانی بھی بہت عمدہ کرتے ہیں۔ وہ جس انداز سے بولتے ہیں وہ ایسا دلکش، پرکشش اور پُر لطف ہوتا ہے کہ ہزاروں کا مجمع دل تھام کر سنتا ہے اور ان کے ایک ایک جملے پر اپنا سر دھنتا ہے۔ اپنی مادری زبان کی عادتیں ایسی راسخ اور مضبوط ہوتی ہیں کہ دوسری زبان کی آوازوں کو اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتیں اور اگر دوسری زبانیں قریب آنے کی کوشش بھی کرتی ہیں تو انھیں مار مار کر ان کی لسانی ٹانگیں توڑ دیتی ہیں مگر ٹام آلٹر نے اردو کے لیے اپنے لسانی مزاج میں وہ جگہ بنائی کہ اردو ان کی مادری زبان انگریزی پر بھی غالب آگئی۔

ٹام آلٹر نے اپنی اردو کو یوں ہی اتنا پر کشش نہیں بنایا بلکہ اس کے لیے انھوں نے کافی محنت کی۔ باقاعدہ اردو سیکھی۔ علّامہ جالب مظہری سہسرامی کی شاگردی اختیار کی۔ لب و لہجے پر خاصی توجہ صرف کی۔ اردو کے اشعار یاد کیے اور انھیں ادا کرنے کی مشق کی۔ ڈائیلاگ ڈلیوری کے وقت اردو آوازوں اور اردو زبان کے لب و لہجے پر نہ صرف یہ کہ موسیقی کی طرح ریاضت کی بلکہ اپنی لسانی عادتوں سے جنگ بھی کی۔ سب سے بڑی بات یہ کہ انھوں نے اپنی شخصیت میں ایسی حلاوت اور لطافت پیدا کی کہ بدیسی ساز سے دیسی سُر تال نکلنے لگے۔ طبیعت کی روانی نے صوت و صدا میں وہ فصاحت پیدا کی کہ لفظ منہ سے نکلتے ہی سماعتوں کے لیے سُر بن گیا۔ اس سُر نے سننے والوں کو اتنا مسحور کیا کہ انھیں یاد نہیں رہا کہ ٹام آلٹر نے دوسرے بڑے بڑے کام بھی کیے ہیں۔

1950ء میں اترا کھنڈ کے مشہور تاریخی شہر مسوری میں پیدا ہونے، امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور ممبئی کی فلمی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے اور ایک عالم کو اپنی آواز سے لطف و انبساط پہنچانے والا ٹام آلٹر ایک دن کینسر کا شکار ہوا اور 67 کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ آواز کے اس جادوگر کی خاموشی پر آج ساری دنیا ماتم کناں ہے اور دعا گو ہے۔ وہ آج اس دنیا میں جسمانی طور پر نہیں ہے لیکن ذہنوں میں چلتا پھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے