• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 1:48 شام
  • پاکستان

دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

بھارتی وزیر نے سوالات کرنے پر نوجوان کو سرِ عام تھپڑ جڑ دیا، ویڈیو وائرل

اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا

دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی

تل ابیب: اسرائیل نے رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے لیے کام کرنے والے نیدرلینڈز (ڈچ) کے سفارت کاروں کا سفارتی درجہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے اتوار کو کہا کہ اس نے فلسطینی اتھارٹی کے لیے رام اللہ میں نیدرلینڈز کی نمائندگی کرنے والے ڈچ سفارت کاروں کی سفارتی حیثیت ختم کر دی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف نیدرلینڈز کی پابندیوں کے جواب میں کیا گیا ہے، اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر کا کہنا ہے کہ رام اللہ میں کام کرنے والے ڈچ سفارتکاروں کو 7 روز میں سفارتی دستاویزات واپس کرنی ہوں گی، جس کے بعد ان کے سفارتی مراعات اور استثنیٰ ختم ہو جائے گا۔

اسرائیل نے رواں ماہ کے آغاز میں مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بھی بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ قونصل خانہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ برطانیہ کے نمائندے کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ فیصلہ بھی لندن کی جانب سے یہودی آبادکاروں کی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر پابندی سمیت ایسی ہی دیگر پابندیوں کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔

ڈچ وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن نے پیر کو کہا کہ انھیں اس ’’غیر ضروری‘‘ فیصلے پر افسوس ہے اور نیدرلینڈز اپنے ردعمل پر غور کر رہا ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا ’’ہماری عارضی پابندیوں کا ہدف اسرائیل نہیں ہے بلکہ یہ ہماری اس ذمہ داری کے نتیجے میں عائد کی گئی ہیں کہ ہم غیر قانونی بستیوں کی غیر قانونی صورت حال میں کسی طرح حصہ نہ ڈالیں۔‘‘

نیدرلینڈز کی جانب سے بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی گزشتہ ہفتے نافذ ہو گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کہا ’’جو بھی ملک اسرائیل کے خلاف معاندانہ اور یک طرفہ طرزعمل اختیار کرے گا، وہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ اور اہمیت کھو دے گا۔‘‘ اسرائیل نے اگست میں بھی ڈچ سفارت کاروں کو غزہ کے لیے امریکا کی قیادت میں قائم رابطہ کاری مرکز میں داخلے سے روک دیا تھا، جو اسرائیل میں قائم ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے اس اقدام کی وجہ ’’اسرائیل مخالف اقدامات‘‘ کو قرار دیا تھا۔

نیدرلینڈز سمیت کئی ممالک طویل عرصے سے ایسے سفارت کار رکھتے ہیں جو رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اپنی حکومتوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جب کہ ان کی رہائش مشرقی یروشلم میں ہوتی ہے۔ اسرائیل روایتی طور پر ان سفارت کاروں کو تسلیم کرتا رہا ہے اور سفارتی مشنز سے متعلق ویانا کنونشن کے تحت انھیں بعض مراعات بھی دیتا رہا ہے۔

فرانس اور کینیڈا نے بھی رواں ماہ برطانیہ کے ساتھ مل کر غیر قانونی یہودی بستیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اسرائیل نے ان دونوں ممالک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت کو غزہ اور مغربی کنارے میں گزشتہ برسوں کے دوران اختیار کیے گئے ہولناک اور انسان کش طرزعمل کے باعث اپنے متعدد اتحادیوں سے سفارتی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسرائیلی کابینہ کے دو نمایاں وزرا پر کئی ممالک پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جب کہ اسپین، آئرلینڈ اور دیگر ممالک نے بھی غیر قانونی بستیوں سے پیدا ہونے والی اشیا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے