• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 11:46 شام
  • پاکستان

تھرلوال انکوائری رپورٹ میں کہا گیا کہ 7 بچوں کو بچایا جا سکتا تھا اگر اسپتال انتظامیہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کرتی

برطانیہ میں بچوں کی قاتل نرس لوسی لیٹبی کے کیس کی حتمی انکوائری رپورٹ نے اسپتال انتظامیہ کی سنگین ناکامیوں کو بے نقاب کردیا۔

لیڈی جسٹس کیتھرین تھرلوال کی سربراہی میں ہونے والی آزاد عوامی انکوائری نے انگلینڈ کے کاؤنٹیس آف چیسٹر اسپتال کے نیونیٹل یونٹ میں ہونے والے واقعات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی حتمی رپورٹ جاری کردی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو کم از کم 3 بچے زندہ بچ سکتے تھے جبکہ 7 دیگر بچوں کو بھی نقصان سے محفوظ رکھا جاسکتا تھا۔

رپورٹ میں اسپتال میں بچوں کی حفاظت کے نظام کو مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ انتظامی ڈھانچے میں خرابی، قیادت اور طبی عملے کے درمیان خلیج اور حفاظتی اقدامات کی بنیادی سمجھ نہ ہونے کے باعث لوسی لیٹبی کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی جاسکی۔

بروقت کارروائی ہوتی تو بچے بچ سکتے تھے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر لوسی لیٹبی کو پہلے ہی نیونیٹل یونٹ سے ہٹا دیا جاتا تو دو نومولود جڑواں بچوں سمیت 5 بچوں کو نقصان سے بچایا جاسکتا تھا۔

علاوہ ازیں مزید 3 بچوں کے معاملے میں بھی بروقت طبی تشخیص اور انسولین سے متعلق شواہد سامنے آنے کی صورت میں انھیں تحفظ فراہم کیا جاسکتا تھا۔

ان بچوں میں سے ایک بچی اب 11 سال کی ہے لیکن اسے دماغی نقصان پہنچا اور اسے 24 گھنٹے نگہداشت کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ جب کسی طبی ملازم پر جان بوجھ کر مریض کو نقصان پہنچانے کا شبہ ہو تو حفاظتی کارروائی کے لیے مکمل ثبوت کا انتظار ضروری نہیں محض شبہ بھی کارروائی کے لیے کافی ہونا چاہیے۔

ڈاکٹروں کے خدشات نظرانداز کیے گئے

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسپتال کے بعض سینئر ڈاکٹروں نے لوسی لیٹبی کی موجودگی کے دوران بچوں کی غیر معمولی اموات اور طبی پیچیدگیوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کی تھی لیکن سینئر نرسنگ اور انتظامی حکام نے ان خدشات پر فوری کارروائی نہیں کی۔

اس کے برعکس لوسی لیٹبی کو نیونیٹل یونٹ سے ہٹائے جانے کے بعد اس کی جانب سے شکایت کے نتیجے میں خود تشویش کا اظہار کرنے والے بعض طبی ماہرین کو تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا۔

انکوائری نے پولیس سے رابطے میں ہونے والی طویل تاخیر کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

والدین کو برسوں تک لاعلم رکھا گیا

رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ بچوں کے والدین کو برسوں تک اس بارے میں مکمل معلومات نہیں دی گئیں کہ ان کے بچوں کے ساتھ کیا ہوا اور یہ خدشات بھی ان سے پوشیدہ رکھے گئے کہ شاید انہیں جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا تھا۔

رپورٹ میں والدین کو اندھیرے میں رکھنے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کو لوسی لیٹبی کی مجرمانہ ذمہ داری سے متعلق عوامی بحث میں غیر متعلقہ نقصان نہیں بننا چاہیے۔

اسپتالوں میں بچوں کے بیڈز پر کیمرے لگانے کی سفارش

انکوائری نے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے 14 اہم سفارشات پیش کی ہیں۔

سب سے نمایاں سفارشات میں نیونیٹل یونٹس کے تمام بچوں کے بیڈز اور انکیوبیٹرز پر ایسے مانیٹرز نصب کرنا شامل ہے جن کے ذریعے والدین اپنے بچوں کو دور سے بھی دیکھ سکیں۔

اس کے علاوہ انسولین رکھنے والے فریج اور الماریوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں انسولین تک رسائی کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے صرف مجاز افراد تک محدود کرنے اور دوا تک رسائی کا ریکارڈ رکھنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

برطانوی وزیر صحت یویٹ کوپر نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت نے نیونیٹل یونٹس میں کیمروں کے منصوبے پر فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے لیے بھی سخت سفارشات

تھرلوال انکوائری نے صرف طبی نگرانی بہتر بنانے کی سفارش نہیں کی بلکہ اسپتالوں کے انتظامی نظام میں بھی تبدیلیوں پر زور دیا ہے۔

رپورٹ میں NHS کے مینیجرز کے لیے ذاتی ذمہ داری اور شفافیت کی لازمی پابندی کی سفارش کی گئی ہے۔

سینئر مینیجرز کے لیے نیا ضابطۂ اخلاق متعارف کرانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے کہ ناکامی یا بدانتظامی کے باعث کسی مینیجر کو ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقل کرکے معاملہ ختم نہ کیا جائے۔

تمام عملے، بشمول ہسپتال بورڈز اور غیر انتظامی ڈائریکٹرز، کے لیے مریضوں کی حفاظت اور ایسے طبی ملازمین سے نمٹنے کی تربیت بھی تجویز کی گئی ہے جن پر جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کا شبہ ہو۔

نرس لوسی لیٹبی اب کہاں ہے؟

36 سالہ لوسی لیٹبی کو 2023 میں سات نومولود بچوں کے قتل اور سات دیگر کو قتل کرنے کی کوشش کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اسے 15 پوری زندگی کی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

لوسی لیٹبی اپنے خلاف الزامات اور سزا کو تسلیم نہیں کرتی اور اپنی سزا ختم کرانے کے لیے قانونی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

تھرلوال انکوائری نے اس کی مجرمانہ سزا کی درستگی یا غلطی کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ اس نے اپنی کارروائی اس بنیاد پر کی کہ لیٹبی کو مذکورہ جرائم میں عدالت پہلے ہی مجرم قرار دے چکی ہے۔

سزا کے خلاف اپیل کی کوشش بھی جاری

لوسی لیٹبی کے کیس کی قانونی حیثیت بھی بدستور زیر بحث ہے۔ اس کے وکلا کی درخواست کریمنل کیسز ریویو کمیشن کے زیر جائزہ ہے جو ممکنہ عدالتی ناانصافی کے مقدمات کا جائزہ لینے والا آزاد ادارہ ہے۔

کریمنل کمیشن کی سربراہ ویرا بیئرڈ نے کہا ہے کہ ادارہ تھرلوال انکوائری کی رپورٹ کا بھی جائزہ لے گا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ آیا اس کے نتائج لیٹبی کی سزا کے جاری جائزے پر کوئی اثر ڈالتے ہیں۔

تین سینئر اسپتال افسران بھی تحقیقات کی زد میں

لوسی لیٹبی کے معاملے میں اسپتال انتظامیہ کا کردار اب بھی قانونی جانچ سے گزر رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق گزشتہ برس اسپتال کے تین سینئر مینیجرز کو سنگین غفلت کے باعث قتل کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اب بھی تفتیش کے دائرے میں ہیں۔ ان میں سے ایک پر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی شبہ ہے۔

تاہم استغاثہ نے گزشتہ برس کہا تھا کہ کاؤنٹیس آف چیسٹر اور لیورپول ویمنز اسپتال میں لوسی لیٹبی کے دور سے متعلق مزید الزامات عائد کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد ناکافی ہیں۔

اسپتال نے معذرت کرلی

کاؤنٹیس آف چیسٹر ہسپتال NHS فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے انکوائری رپورٹ پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2015 اور 2016 میں پیش آنے والے واقعات پر اسے افسوس ہے اور آج کا ادارہ نئی قیادت، بہتر انتظامی نظام اور مضبوط حفاظتی طریقہ کار کے ساتھ ایک مختلف تنظیم ہے۔

خیال رہے کہ لوسی لیٹبی نے جون 2015 سے جون 2016 کے دوران کاؤنٹیس آف چیسٹر اسپتال کے نیونیٹل یونٹ میں کام کیا۔

استغاثہ کے مطابق اس دوران اس نے بچوں کو انسولین کی خطرناک مقدار دینے ان کے جسم میں ہوا داخل کرنے اور دودھ زبردستی پلانے جیسے طریقوں سے نقصان پہنچایا۔

اس کیس نے برطانیہ میں اسپتالوں کے حفاظتی نظام، طبی عملے کی نگرانی اور انتظامیہ کی جواب دہی پر شدید سوالات اٹھائے۔

تھرلوال انکوائری کا مقصد نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو جوابات فراہم کرنا بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کرنا بھی تھا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے